تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 236
تاریخ احمدیت 236 اپنے عملی نمونہ سے اور لٹریچر کی اشاعت کے ذریعہ بھی اسلامی خوبیوں سے آگاہ کرتے رہو۔اور ہمیشہ ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھو اور ایسے بلند اخلاق کا مظاہرہ کرو کہ وہ تمہیں انسانوں کی صورت میں خدا تعالیٰ کے فرشتے سمجھنے لگ جائیں۔یہ امر یا درکھو کہ ہم لوگ کسی سوسائیٹی کے ممبر نہیں ہیں جو محدود مقاصد کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔بلکہ ہم ایک مذہب کے پیرو ہیں اور مذہب تعلق باللہ اور شفقت علی خلق اللہ کے مجموعہ کا نام ہوتا ہے۔پس جس طرح تعلق باللہ کے بغیر کوئی قوم مذہب سے سچا تعلق قائم رکھنے والی قرار نہیں دی جاسکتی اسی طرح شفقت علی خلق اللہ کے بغیر بھی کوئی مذہب سچا مذہب نہیں کہلا سکتا۔اور شفقت علی خلق اللہ کے دائرہ میں ایک ہندو اور سکھ وغیرہ بھی اسی طرح داخل ہے جس طرح ایک مسلمان۔پس میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے ہمسایوں یعنی ہندو اور سکھ احباب سے ہمیشہ اچھے تعلقات رکھو۔اور ان کی خوشی میں اپنی خوشی اور ان کی تکلیف میں اپنی تکلیف محسوس کرو۔یہی وہ تعلیم ہے جو اسلام نے محمد رسول اللہ اللہ کے ذریعہ ہمیں دی ہے اور جس کی وجہ سے اسلام کو دنیا کے تمام مذاہب پر فوقیت حاصل ہے۔اسلام کوئی قومی مذہب نہیں بلکہ ایک عالمگیر مذہب ہے جو تمام دنیا کے افراد کو اپنے دائرہ ہدایت میں شامل کرتا ہے۔پس جس طرح مسلمان ہمارے بھائی ہیں اسی طرح ہندو اور سکھ بھی انسانیت کے وسیع حلقہ میں ہمارے بھائی ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان سے برادرانہ تعلقات رکھیں اور ان سے لطف و مدارات کا سلوک کریں۔اگر کوئی شخص اپنی نادانی کی وجہ سے ہم سے عنا درکھتا ہے تو یہ اس کا ایک ذاتی فعل ہے جس کا وہ خود ذمہ دار ہے۔ہماری طرف سے کسی کی دل آزاری نہیں ہونی چاہئے اور نہ کسی کو تکلیف پہنچانے کا خیال ہمارے دلوں میں آنا چاہئے۔ہمارا کام یہ ہے کہ ہم بدی سے نفرت رکھیں، لیکن بد کی اصلاح کے لئے اس سے محبت اور پیار کا سلوک کریں کیونکہ آخر وہ ہمارا بھائی ہے اور اس کی اصلاح ہمارے لئے خوشی کا موجب ہے۔پنجاب میں جن دنوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیش گوئی کے مطابق طاعون کا مرض بڑے زور سے پھیلا ہوا تھا اور لاکھوں لوگ لقمہ اجل ہو رہے تھے کہ ایک دفعہ مجھے بیت الدعا سے یعنی اس کمرہ سے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعاؤں کے لئے مخصوص کیا ہوا تھا اس طرح در دو کرب کے ساتھ رونے اور چیخنے چلانے کی آواز میں آئیں جلد 21