تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 185 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 185

تاریخ احمدیت 185 تقریب منعقد کی گئی جس کے جملہ انتظام مکرم سمیع اللہ سیال اور مکرم غلام احمد صاحب نسیم نے کئے تھے۔اس تقریب میں شہر بو کے معززین سکولز کے اساتذہ، وکلاء وغیرہ مدعو تھے۔مکرم شیخ نصیر الدین احمد صاحب نے محترم شیخ صاحب کا تعارف کرایا پھر محترم شیخ صاحب نے حاضرین سے خطاب کیا اور اس ملک کی آزادی کے بارہ میں اپنے تاثرات کا ذکر کیا جس سے حاضرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔آپ کے بعد بوشہر کے سینئر مجسٹریٹ مسٹر بانجا تیجان سی نے حاضرین سے خطاب کیا ( یہ بعد میں سیرالیون کے قائمقام گورنر جنرل کے عہدہ پر فائز ہوئے اور 1970ء میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب جماعت احمدیہ کے تیسرے امام کے اعزاز میں آپ نے گورنر ہاؤس میں سٹیٹ ڈنر پیش کیا تھا۔) آپ نے کہا قابل جج نے جس رنگ میں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے یہ ان کا ہی حصہ ہے آپ کا انداز نہایت اچھوتا اور دلکش تھا اور آپ کی باتوں پر اگر ہم عمل کر سکیں تو ہماری حالت بدل سکتی ہے اور ہم جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔بو میں آپ نے احمد یہ سیکنڈری سکول کے طلباء کے علاوہ گورنمنٹ سیکنڈری سکول کے طلباء و اساتذہ سے بھی خطاب کیا اور نہایت احسن پیرایہ میں پاکستان کے قیام اور اس کی ترقی یافتہ حالت ان پر واضح کی پھر ملک کی آزادی کے ضمن میں طلباء کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی بعد میں طلباء و اساتذہ نے پاکستان کے بارہ میں بعض سوالات کئے جن کے آپ نے تسلی بخش طریق پر جوابات دئے۔فری ٹاؤن سے واپسی پر آپ نے احمد یہ سیکنڈری سکول فری ٹاؤن کے اساتذہ وطلباء سے خطاب کیا۔محترم شیخ صاحب سیرالیون میں جماعتی ترقی ، اور ملک کے عوام و خواص اور حکومت میں جماعت کی عزت اور وقار سے بھی بہت متاثر ہوئے۔اور فری ٹاؤن مشن ہاؤس میں مربیان کے ساتھ باتوں باتوں میں کہنے لگے اومنڈیو ہم نے تو تمھیں وہاں پاکستان میں کبھی کوئی اہمیت نہیں دی تھی مگر یہاں آکر معلوم ہوا ہے کہ آپ لوگ جماعت کے لئے کیا کام کر رہے ہیں اور آپ کی مساعی میں خدا تعالیٰ نے کس قدر برکتیں ڈالتے ہوئے جماعت احمدیہ کو عزت اور وقار عطا کیا ہے۔محترم شیخ بشیر احمد صاحب نے اس موقع پر دو تین بار جب او منڈی لفظ دہرایا تو مکرم شیخ جلد 21