تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 184 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 184

تاریخ احمدیت 184 نمائندہ سے بھی ہوئی۔محترم شیخ صاحب نے کمیونزم اور دین حق کے اصولوں پر اس سے اس رنگ میں گفتگو کی کہ وہ بہت ہی متاثر ہوا۔محترم شیخ صاحب کی گفتگو میں ایک ایسی چاشنی اور جذب تھا اور طرز تکلم ایسا موثر تھا کہ سامع اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ہمارے ایک افریقن ٹیچر کہنے لگے میں تو جب شیخ صاحب گفتگو کرتے ہیں ہمیشہ آپ کی آنکھوں کی حرکات کی طرف دیکھتارہتا ہوں اور اس سے لطف اندوز ہوتا ہوں۔سارے واقعات کو یہاں بیان کرنا تو مشکل ہے مختصر یہ کہ محترم شیخ صاحب کی آمد نے احمد یہ مشن کے وقار کو بہت بلند کیا آپ نے گورنر جنرل ، وزیر اعظم ، میئر آف فری ٹاؤن، جنرل سیکرٹری مسلم کا نگریس ، وزراء حکومت مختلف ممالک کے سفراء، پیرامونٹ چیفس سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی۔سیرالیون کے چیف جسٹس MR۔JUSTICE STA KAKOKE) نے محترم شیخ صاحب کے اعزاز میں ایک خصوصی پارٹی کا انتظام کیا جس میں ملک کے حجز ، وکلاء اور معززین بھی مدعو تھے اور محترم شیخ صاحب کو ان سے تعارف اور گفتگو کا موقع ملا۔یو نیورسٹی کالج آف سیرالیون نے ایک تقریب منعقد کی اس میں بھی محترم شیخ صاحب نے شرکت کی۔ریڈیو سیرالیون پر آپ کا ایک خصوصی پیغام نشر کیا گیا۔جماعت احمدیہ کے لئے تو یہ ایک نہایت خوشی کا موقع تھا کہ مرکز سے ایک خصوصی نمائندہ کو مدعو کر کے حکومت نے انہیں ایک خاص اعزاز بخشا تھا۔اور جماعت فری ٹاؤن نے محترم شیخ صاحب کے اعزاز میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی جس میں ملک کی سرکردہ شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا اور محترم شیخ صاحب کو ان سے گفتگو کرنے اور تبادلہ خیالات کا موقع ملا۔سیرالیون میں چونکہ زیادہ تر جماعتیں جنوبی اور شرقی صوبہ میں تھیں جن کا مرکزی شہر ہو تھا جو اس وقت تک جماعت احمدیہ کا بھی ہیڈ کوارٹر تھا لہذا 30 اپریل کو محترم شیخ صاحب بوتشریف لے گئے جہاں ملک کی مختلف جماعتوں سے احباب جماعت جمع تھے۔محترم شیخ صاحب کو ان سے ملاقات کرنے کے بعد خطاب کا موقع ملا وہاں آپ حضرت مولانا نذیر احمد صاحب علی کی قبر پر بھی تشریف لے گئے اور دعا کی۔جماعت کی طرف سے وہاں برٹش کونسل کے ہال میں آپ کے اعزاز میں ایک استقبالیہ جلد 21