تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 8
تاریخ احمدیت 8 جلد 21 اس بنیان مرصوص پر قائم ہو وہ کبھی فنانہیں ہوسکتی۔اہم شخصیات کو دینی لٹریچر کا تحفہ: 766 11 دینی لٹریچر کی اشاعت کے سلسلہ میں برصغیر پاک و ہند کی مخلص جماعتوں نے اپنی مساعی کا سلسلہ اس سال بھی بدستور جاری رکھا۔مثلاً ڈاکٹر سید اختر احمد صاحب اور مینوی صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی نے 14 را پریل 1960ء کو جواہر لعل نہرو ( وزیر اعظم ہند) اور شری بھونیشور پر شاد چیف جسٹس آف انڈیا کی خدمت میں قرآن کریم انگریزی اور اگلے روز چیف جسٹس پٹنہ ہائی کورٹ کو ٹچنگز آف اسلام کا تحفہ پیش کیا۔جس پر تینوں اصحاب نے اظہار مسرت کیا۔مولوی محمد اجمل صاحب شاہد مربی پشاور اور مولوی محمد ابراہیم صاحب سابق مجاہد یوگنڈا نے 22 رمئی 1960ء کو امریکن کونسل مسٹر کا رڈسن ڈی لنگ مقیم پشاور کی خدمت میں ایڈریس پیش کیا۔ازاں بعد انگریزی قرآن مجید اور دیگر دینی لٹریچر کا تحفہ دیا جسے موصوف نے بخوشی قبول کیا۔مئی 1960ء میں مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ بخشی غلام محمد صاحب نے جنوبی کشمیر کا دورہ کیا۔جماعت احمد یہ شورت نے ان کا پر جوش استقبال کیا اور انہیں سلسلہ احمدیہ کا لٹریچر پیش کیا۔جسے آپ نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔سینٹو (CENTO) کی بین الاقوامی فوجی تنظیم شرق اوسط کے دفاع کے لئے 1955ء میں قائم ہوئی جس میں برطانیہ، ایران، پاکستان ، ترکی اور عراق شامل تھے۔اور امریکہ معاون رکن تھا۔اس وقت اس کا مرکز انقرہ تھا اور اسے ” بغداد پر اجیکٹ سے موسوم کیا گیا۔1959ء میں عراق الگ ہو گیا تو اس کا نام سینٹو رکھا گیا۔سینٹو کا ایک اقتصادی سیمینار اس سال 13 جون سے 17 جون 1960 ء تک مری میں منعقد ہوا۔اُن دنوں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح وارشاد تھے آپ کی خصوصی ہدایت کے مطابق جماعت احمدیہ کے ایک خصوصی وفد نے سینٹو کے نمائندگان کو اسلامی لٹریچر کا ایک ایک سیٹ پیش کیا۔یہ وفد مندرجہ ذیل احباب پر مشتمل تھا۔چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ سابق مجاہد انگلستان ، مولوی دین محمد شاہد صاحب مربی سلسلہ راولپنڈی ، مولوی محمد اشرف ناصر صاحب مربی سلسلہ مری۔آل انڈیا کانگرس کمیٹی کے صدرشری سنجید ار ریڈی نے صوبہ اڑیسہ کا دورہ کرتے ہوئے 6 نومبر 1960ء کو چودوار ( اڑیسہ ) میں ایک بھاری اجتماع سے خطاب کیا۔صدارت کے فرائض ڈاکٹر ہری کرشن مہتاب وزیر اعلی اڑیسہ نے ادا کئے۔اس موقعہ پر جناب مولوی غلام مھدی صاحب مبلغ اڑیسہ نے