تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 7
تاریخ احمدیت 7 جلد 21 احمد صاحب تیما پوری، مکرم مولوی شریف احمد امینی صاحب ( مبلغ مدراس)، مکرم مولوی سمیع اللہ صاحب قیصر ( مبلغ بمبئی ، مکرم محمد کریم اللہ صاحب ( اڈیٹر آزاد نوجوان ) مکرم عبد اللطیف صاحب (ابن سیٹھ عبدالحئی صاحب امیر جماعت احمد یہ یاد گیر ) ان جلسوں کے نتیجہ میں یاد گیر اور تیما پور کے 2 افراد داخل سلسلہ ہوئے۔ان جلسوں کے لئے ربوہ سے قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے درجہ ذیل پیغام ارسال فرمایا : اس وقت میرا پیغام یہی ہے کہ بکوشیداے جواناں تا بدیں قوت شود پیدا۔احمد یہ جماعت دین حق کے احیاء کے لئے پیدا کی گئی ہے اس لئے یہ مقصد بھی نہیں بھلانا چاہیے اور ہر امر میں دین کو دنیا پر مقدم کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور آپ کو اپنے فضل ورحمت کے سایہ میں رکھے۔آمین علامہ نیاز فتحپوری فضل عمر ڈسپنسری کراچی میں: والسلام مرزا بشیر احمد 0 21 مئی 1960ء کا واقعہ ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے بلند پایہ ادیب و صحافی علامہ نیاز فتحپوری نے جماعت احمدیہ کراچی کی فضل عمر ڈسپنسری کا معائنہ کیا اور اپنے تاثرات درج ذیل الفاظ میں تحریر فرمائے: د فضل عمر ڈسپنسری دیکھنے کے بعد کسی کا صرف یہ کہہ دینا کہ اسے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی بڑا ناقص اعتراف ہے اس عظیم خدمت انسانی کا جو ڈسپنسری انجام دے رہی ہے۔مارٹن روڈ اور گولی مار کے دونوں شفا خانے جنہیں خدام جماعت احمدیہ نے واقعتا اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا ہے جذ بہ خیر، جوش عمل اور جسم و روح کی بیداریوں کی ایسی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن سے غض بصر ممکن نہیں۔ان شفا خانوں کا اصل مقصود خالصہ للہ انسانی در دو دکھ میں شریک ہونا ہے۔اور اسی لئے دواؤں کے علاوہ یہاں تیمار دارا نہ غذا ئیں بھی مفت تقسیم کی جاتی ہیں اور دماغی صحت کے لئے دارالمطالعہ بھی قائم کر دیا گیا ہے۔اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کے اس دور بے عملی میں جماعت احمدیہ کا یہ اقدام نوع انسانی کی اتنی بڑی خدمت ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی اور جس جماعت کی تعمیر