تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 137
تاریخ احمدیت 137 جلد 21 (KANGNATA) میں پیغام حق پہنچایا اورلٹریچر تقسیم کیا بعد از ان یہ وفد کین پینیڈا (KENPENDA) گیا اور وہاں کے چیف سے ملاقات کی۔وفد کے لیڈر مسٹر جوارا صاحب نے چیف کے گھر میں موجود تمام احباب کے سامنے مسیح کی آمد اور احمدیت کے مخصوص عقائد پر تقریر کی اور سوالات کے جوابات دئے۔اس دوران وفد کے باقی چار ممبر گاؤں کے لوگوں میں لٹریچر تقسیم کرتے رہے۔ان تینوں گاؤں کے لوگوں نے وفد کو دوبارہ آنے کی دعوت دی۔70 127اکتوبر 1983ء کو بصے میں ناصر احمد یہ ہائی سکول کا افتتاح عمل میں آیا۔پہلے پرنسپل مکرم چوہدری سعید احمد صاحب چٹھہ مقرر ہوئے۔نومبر 1985ء میں ماریشس سے مکرم نذیر احمد صاحب بگھیلوایم ایس سی بھی پہنچ گئے اور فزکس کا مضمون پڑھانا شروع کر دیا۔ان سے قبل اکتوبر 1985ء میں مولوی منور احمد صاحب خورشید اسلامیات اور قرآن پاک کی کلاسز با قاعدہ لینے لگے۔0 25 دسمبر 1983ء کو سالکینی کے مقام پر خدام الاحم یہ گیمبیا کا پہلا سالانہ اجتماع منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے 75 نمائندے شامل ہوئے۔یہ اجتماع بہت کامیاب رہا۔اس موقع پر 24 دسمبر کی شب کو ایک تبلیغی جلسہ بھی منعقد کیا گیا۔اجتماع کے بعد لجنہ کی تنظیم کو مضبوط کرنے کے لئے صدر لجنہ گیمبیا سر نسیم احمد صاحب اور مسٹر داؤ د احمد صاحب نے دس مقامات کا دورہ کیا جس کے دوران 6 مستورات احمدی ہوئیں۔اکتوبر 1984 ء میں مولوی منور احمد خورشید صاحب کی کوشش سے ناصر احمد یہ سکول بصے کے 76 طلبہ نے ایک سال میں قرآن کریم ناظرہ مکمل کر لیا۔ان طلبہ کی تقریب آمین 27 اکتوبر 1984 ء کو منعقد ہوئی۔کہا جاتا ہے کہ گیمبیا میں غالباً پہلا موقع تھا کہ ایک سال کے عرصہ میں اتنی تعداد میں طلبہ نے قرآن مجید ناظرہ پڑھ لیا ہو۔اس وجہ سے علاقہ میں اسکی خاصی شہرت ہوئی۔1984 ء کا آخر گیمبیا کے لئے بہت خوش کن ثابت ہوا کیونکہ اس سال نصرت ہائی سکول با نجول اپنے نتیجہ کے اعتبار سے ملک بھر کے باقی تمام سکولوں کے مقابلہ میں مجموعی طور پر اول رہا۔اس نو عمر ادارہ کی اپنی چودہ سالہ تاریخ میں یہ رفعت اپنی مثال آپ تھی۔مضامین کے لحاظ سے طلبہ نے اقتصادیات ، شماریات، ریاضی اور دینیات میں گریڈ اول حاصل کئے۔دینیات میں حسب سابق اکثر طلبہ امتیازی درجہ میں پاس ہوئے جبکہ ریاضی ، شماریات اور تاریخ میں پچاس ساٹھ فیصد طلبہ نے امتیازی نمبر حاصل کئے۔مجموعی طور پر 55 فی صد طلبہ معیاری نمبر حاصل کر کے سکول سرٹیفکیٹ کے مستحق ہوئے۔بقیہ سب طلبہ بھی جی سی ای پاس قرار دئے گئے۔ان قابل فخر طلبہ میں سے ایک احمدی طالب علم لامن لی صاحب ( جو احمدی طلبہ کی تنظیم کے صدر بھی تھے ) نہایت اعلیٰ کامیابی کے ساتھ ملک بھر کے طلباء میں اول آئے۔