تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 121
تاریخ احمدیت 121 جلد 21 مولوی اقبال احمد غضنفر صاحب شاہد روانگی از سیرا از سیرالیون 26 مئی 1969 ء۔واپسی ربوہ 30 مئی 1971ء) مرزا محمد اقبال صاحب شاہد ( روانگی از ربوہ 14 اکتوبر 1969 ء۔واپسی ربوہ 10 فروری 1974ء) چوہدری محمد شریف صاحب نے ستمبر 1967ء میں پبلک لیکچروں کا آغاز فرمایا اور اس کی ابتداء باتھرسٹ میں حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کے لیکچر لنڈن ”امن کا پیغام اور ایک حرف انتباہ“ سے کی۔اس لیکچر کا حاضرین پر نہایت اعلیٰ اثر ہوا اور انہوں نے تسلیم کیا کہ مغرور یور چین اقوام کو اس لب ولہجہ میں وہی شخص خطاب کر سکتا ہے جو خود موید من اللہ ہو۔حضور کا یہ معرکہ آرا لیکچر تمام عمائدین گیمبیا اور تمام ارکان وارباب حکومت کو پہنچا دیا گیا اور ملک کے دوسرے طبقوں میں بھی اس کی خوب اشاعت کی گئی۔گورنر جنرل نے یہ لیکچر خاص طور پر پسند کیا۔فروری 1968 ء میں حکومت گیمبیا نے احمد یہ میڈیکل مشن کے قیام کی منظوری دے دی اور 10 جون 1968 ء کو ڈاکٹر سعید احمد صاحب ایم۔بی۔بی۔ایس ، ڈی۔پی۔ایچ گیمبیا کے پہلے میڈیکل مشنری کی حیثیت سے باتھرسٹ میں تشریف لائے اور کا دور (KAUR) مقام میں میڈیکل سنٹر قائم کر کے طبی خدمات کا آغاز کر دیا۔اسی مہینہ میں مرکزی احمد یہ مشن کے لئے باتھرسٹ کے وسط میں ایک قطعہ زمین اور خرید لیا گیا۔چوہدری محمد شریف صاحب 1961 ء سے احمد یہ سکول کے قیام کے لئے جد و جہد فرما رہے تھے مگر اس میں کامیابی سات سال بعد ہوئی۔چنانچہ جولائی 1968 ء میں حکومت نے اس غرض کے لئے باتھرسٹ کے قریب سترہ ایکٹر زمین کی منظوری دے دی اور اس سے ملحق مزید چونتیس ایکڑ زمین بھی اسکی توسیع کے لئے مخصوص کر دی۔1968ء میں 191افراد حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔انکے بیوی بچے اس تعداد کے علاوہ تھے۔احمد یہ میڈیکل سنٹر خدا کے فضل سے بہت جلد مرجع خلائق بن گیا اور اسے ایسی شہرت ہوئی کہ قصبہ فرافینی کے باشندوں کی درخواست پر اس علاقہ میں 3 جنوری 1969ء کو اسکی ایک شاخ قائم کر دی گئی۔ہز ایکسیلنسی گورنر جنرل گیمبیا الحاج سنگھاٹے صاحب نے جنوری کے آخر میں اسے ملا حظہ کیا اور از حد خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ جماعت احمدیہ نے اس ملک اور اس علاقہ کی حقیقی ضرورت کو پورا کیا ہے۔یہ ریمارکس گیمبیا نیوز بلیٹن میں چھپے اور ریڈیو پر نشر ہوئے۔