تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 77
تاریخ احمدیت 77 جلد ۲۰ ۱۹۳۵ء میں ہم ایک بہت بڑی جوبلی مناتے لیکن ہماری جماعت نے ۱۹۳۹ء میں خلافت کی جو بلی تو منائی لیکن ۱۹۳۵ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صد سالہ جو بلی بھول گئی۔اب بھی وقت ہے کہ جماعت اس طرف توجہ کرے۔۱۰۰ سال کی جو بلی بڑی جو بلی ہوتی ہے۔جب جماعت کو وہ دن دیکھنے کا موقع ملے تو اس کا فرض ہے کہ وہ یہ جو بلی منائے اب تک انہوں نے ۷۶ سال کا عرصہ دیکھا ہے اور ۲۴ سال کے بعد سو سال کا زمانہ پورا ہو جائے گا اس وقت جماعت کا فرض ہوگا کہ ایک عظیم الشان جو بلی منائے اس سوسال کے عرصہ میں سارے پاکستان کو خواہ وہ مغربی ہو یا مشرقی ہم نے احمدی بنانا ہے اس کے بعد جو لوگ زندہ رہیں گے وہ انشاء اللہ وہ دن بھی دیکھ لیں گے جب ساری دنیا میں احمدی ہی احمدی ہوں گے۔66 سید نا حضرت مصلح موعود کا سفر سندھ سید نا حضرت لمصلح موعود اس سال کے آغاز میں ایک ماہ کے لئے سندھ تشریف لے گئے۔حضور ۱۷ رفروری ۱۹۵۸ء کو صبح دس بجے بذریعہ چناب ایکسپریس روانہ ہوئے۔اس سفر میں حضرت سیده ام متین صاحبہ صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (معه سیده آصفہ بیگم صاحبہ ) صاحبزادہ مرزا انور احمد صاحب، صاحبزادی امۃ الجمیل صاحبہ، صاحبزادی امتہ المتین صاحبہ اور سید محمود احمد صاحب ناصر کو حضور کے ہمرکاب ہونے کا شرف حاصل ہوا۔خدام میں سے میاں غلام محمد صاحب اختر ناظر اعلی ثانی شیخ مبارک احمد صاحب پرائیویٹ سیکرٹری ، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب، ڈاکٹر محمد احمد صاحب، منشی فتح دین صاحب بھی شامل قافلہ تھے۔کل قافلہ چھیالیس افراد پر مشتمل تھا۔حضور کی مشایعت کے لئے ربوہ کے ہزاروں مخلص احباب اسٹیشن پر پہنچ گئے اور جب گاڑی حرکت میں آئی تو سب نے دلی خلوص اور دعاؤں کے ساتھ حضور کو الوداع کہا۔لائکپور (فیصل آباد ) گوجرہ ، شورکوٹ ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، عبدالحکیم ، خانیوال اور ملتان کے اسٹیشنوں پر بھی سینکڑوں عشاق خلافت اپنے محبوب و مقدس آقا کے استقبال کے لئے موجود تھے۔احمدی مستورات کی بھی خاصی تعداد تھی۔گوجرہ ، خانیوال اور ملتان میں جماعتوں کی درخواست پر حضور نے اجتماعی دعا کرائی۔اگلے روز ۱۸ / فروری دس بجے صبح کے قریب گاڑی کراچی چھاؤنی پہنچی۔جماعت کراچی نے اپنے امیر چوہدری عبداللہ خاں صاحب اور نائب امیر شیخ رحمت اللہ صاحب کی قیادت میں حضرت مصلح موعود کا نہایت پر جوش استقبال کیا۔حضور اپنی