تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 818 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 818

تاریخ احمدیت 818 جلد ۲۰ خدمت کئے۔چند روز بعد منشی روڑ ا صاحب بھی لدھیا نہ آگئے میں وہیں تھا۔ان سے حضور نے ذکر فر ما یا کہ آپ کی جماعت نے بڑے اچھے موقعہ پر امداد کی منشی روڑ ا صاحب نے عرض کی کہ جماعت کو یا مجھے تو پتہ بھی نہیں اس وقت منشی صاحب مرحوم کو معلوم ہوا کہ میں اپنی طرف سے آپ ہی روپیہ دے آیا ہوں“۔محترمه ایمنہ بیگم صاحب زوجہ حضرت چوہدری محمد عبد اللہ خاں صاحب بہلول پور۔۸۸ ولادت ۱۸۷۵ء۔بیعت ۱۹۰۲ ء۔وفات ۴ جون ۱۹۶۰ء ) ے۔محترمه سردار بیگم صاحبہ زوجہ حضرت ماسٹر فقیر اللہ صاحب ( ولادت ۱۸۸۹ء۔بیعت ۱۹۰۱ ء۔وفات ۱۰ ستمبر ۱۹۶۰ء) نہایت نیک طبع ، نیک سیرت اور مخیر خاتون تھیں۔کبھی کسی سوالی کو خالی ہاتھ نہ جانے دیتیں حتی الوسع ضر ور امداد کر تیں۔خلافت ثانیہ سے انہیں ہمیشہ ہی پوری وابستگی رہی۔محترمہ کلثوم صغریٰ صاحبہ اہلیہ حضرت مولانا ذوالفقار علی خاں صاحب گوہر وفات۔١٩٠ ۱۱ - ۱۲ / ستمبر ۱۹۶۰ء۔محترمه حسین بی بی صاحبہ زوجہ حضرت میاں امام دین صاحب سیکھوانی ( ولادت ۱۸۷۰ ء۔بیعت ۱۸۹۱ ء۔وفات ۱۹ ستمبر ۱۹۶۰ ء ) مرحومہ کو۳۱۳ رفقاء کبار کی فہرست میں بھی شمولیت کا شرف حاصل تھا کیونکہ حضرت مسیح موعود نے ان کے میاں کو اس فہرست میں معہ اہل خانہ شامل فرمایا تھا۔و ذالك فضل الله يوتيه من يشاء آپ تہجد گذار اور دعا گو خاتون تھیں اور سلسلہ احمدیہ کی خاطر ہر قربانی پیش کرنے کے لئے ہر دم تیار رہتی تھیں۔۔۹۲