تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 797 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 797

تاریخ احمدیت 797 جلد ۲۰ فرماتے اور اس وجہ سے روزانہ ڈاک کا جواب خود اپنے ہاتھ سے ہر دوست کو تحریر فرماتے اور خط کو ایک ایسا ذاتی رنگ دیتے کہ قاری گہرا اثر لئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔دوم روز کا کام روز ختم کرنا ضروری سمجھتے تھے اور روزانہ ڈاک کا جواب شام کو لکھ کر فارغ ہوتے تھے اس وجہ سے دفتری اوقات آپ کے لئے ناکافی تھے وعدہ جات کی تحریک کے دنوں میں میں نے آپ کو دفتر سے رات کے نو دس بجے سے قبل گھر جاتے ہوئے شاذ ہی دیکھا تھا۔سب سے آخر میں وعدوں کی مکمل رپورٹ اور دن بھر کے کام کا خلاصہ ۹۔۱۰ بجے رات کے قریب حضرت اقدس کے حضور بھجواتے اور کچھ دیر تک انتظار فرماتے کہ حضور کی طرف سے رپورٹ کے ملا حظہ کے بعد کوئی استفسار نہ آجائے اس کے بعد گھر تشریف لے جاتے۔با وجود تعلیم کی کمی کے آپکو اخبار کے لئے نوٹ لکھنے کا ایک خاص ملکہ حاصل ہو گیا تھا اور آپ کا اسلوب تحریر منفر د رنگ اختیار کر گیا تھا جو بعد میں کسی سے نقل نہ ہو سکا۔آپ کے نوٹ پڑھنے والے جانتے ہیں کہ باوجود اپنی سادگی کے وہ کس قدر گہرے اثر کے حامل ہوتے تھے اور چندہ تھا کہ اس کے نتیجہ میں اُمڈا چلا آتا تھا۔چندہ جمع کرنے میں آپ کو ایک خاص مہارت تھی دو چار لاکھ روپیہ کسی تحریک کے لئے جمع کرنا آپ بہت معمولی بات سمجھتے تھے۔ریٹائرمنٹ کے بعد بقایا جات کی وصولی کا کام آپ کے سپر د کیا گیا۔جن دوستوں کو چندہ جمع کرنے کا تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ بقایا جات بالخصوص طوعی چندوں کے بقائے وصول کرنا خاصہ مشکل کام ہے لیکن اس میں بھی مکرم چوہدری صاحب کو نمایاں کامیابی ہوئی اور آپ نے اس مد میں ایک کثیر رقم جمع کر کے تحریک جدید کو دی ۱۹۴۷ء کے قیامت خیز ہنگامہ میں ہجرت کے وقت خدا کے اس مخلص بندہ کو اگر فکر تھا تو صرف اس بات کا کہ مخلصین جماعت کے چندوں کے حساب کا ریکارڈ کسی طرح پاکستان محفوظ پہونچ جائے۔چنانچہ اس غرض کے لئے متعدد بار فرمایا کہ اگر پیدل قافلہ جانے کی صورت ہو تو ایک ایک کھانہ ایک ایک کارکن کے سپر د کر دیا جائے۔تقسیم ( ملک ) کے بعد جو دھا مل بلڈنگ کے اسی کمرہ میں جو دفتر کے لئے الاٹ ہوا فروکش ہوئے ان کے ساتھ رہنے والوں کا بیان ہے کہ رات جب کبھی ان کی آنکھ کھلتی تو وہ اکثر مرحوم کو چندہ جات کا کھاتہ لئے ہوئے کام کرتے ہوئے پاتے غرضیکہ محترم چوہدری صاحب کی زندگی کام۔کام۔کام پر مشتمل تھی اور اسی دُھن میں آپ نے اپنی جان جان آفریں کے سپر د کر دی