تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 788 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 788

تاریخ احمدیت 788 جلد ۲۰ زمانہ بھی انہوں نے کمال صبر اور بشاشت سے برداشت کیا۔بلا جیل خانہ میں بھی کئی لوگوں کو ( جن میں بعض کا فی مخالف تھے ) اپنی مخلصانہ تبلیغ سے رام کر لیا۔گو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں چوہدری صاحب بالکل نو عمر بلکہ طالب علم تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ انہیں ذاتی تعارف کا شرف حاصل تھا۔اور حضور ان کو محبت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ایک دفعہ کسی سفر میں مصاحبت کا سوال تھا تو ساتھ جانے والوں کی فہرست دیکھ کر حضرت مسیح موعود نے خود کہہ کر چوہدری صاحب کا نام لکھایا بلکہ نام لکھنے والوں سے کہا کہ شائد آپ لوگوں نے فتح محمد کا نام اس لئے چھوڑ دیا ہے کہ وہ تو بہر حال پہونچ ہی جائے گا۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے ساتھ بھی چوہدری صاحب کا بچپن کا ساتھ تھا۔چنانچہ رسالہ تحیذ الاذہان کے اجراء میں اور پھر جلس انصار اللہ کے قیام میں وہ شروع سے حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ رہے۔در اصل وہ حضور کے فراتی دوستوں میں سے تھے۔اور حضور کے ساتھ بے حد عقیدت رکھتے تھے۔اور حضرت خلیفہ اسیح اول کے ساتھ تو ان کا جسمانی رشتہ بھی تھا۔یعنی زوجہ اول کے بطن سے حضور کی نواسی ( ہاجرہ بیگم مرحومہ ) جو میری رضاعی بہن تھیں چوہدری صاحب کے عقد میں آئیں اور چوہدری صاحب کی زیادہ اولاد انہی کے بطن سے ہوئی اور بعد میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے ساتھ بھی چوہدری صاحب کا رشتہ قائم ہو گیا۔کیونکہ حضور کی چھوٹی صاحبزادی عزیزہ امتہ الجمیل سلمها چوہدری صاحب کے فرزند عزیز ناصر محمد سیال واقف زندگی کے ساتھ بیاہی گئی۔چوہدری صاحب مرحوم ایک بڑے مجاہد اور نڈر۔اور بہادر مبلغ ہونے کے علاوہ تہجد گزار اور نوافل کے پابند اور دعاؤں میں بہت شغف رکھنے والے بزرگ تھے اور صاحب کشف و رویاء بھی تھے۔میں جن دوستوں اور بزرگوں کو عموماً دعا کے لئے لکھا کرتا تھا۔ان میں چوہدری صاحب مرحوم کا نام بھی شامل تھا۔مجھے اس مخلص اور بے ریا اور وفادار بھائی کی وفات کا بڑا صدمہ ہے مگر بلا نیوالا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور جماعت کو ان کا بدل عطا فرمائے۔اور ان کی اولاد اور بیوی اور دیگر لواحقین کا دین و دنیا میں حافظ و