تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 787 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 787

تاریخ احمدیت 787 جلد ۲۰ کہ وفات کے وقت مجھے پتہ بھی نہ لگا اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں اعلیٰ علیین میں جگہ دے اور اس کے فرشتے ان کو لینے کے لئے آگے آئیں۔اور خدا تعالے کی برکتیں ہمیشہ ان پر اور ان کے خاندان پر نازل ہوتی رہیں۔میری ایک بیٹی بھی اُن کی بہو ہے۔خدا اس کو بھی اپنے خاوند کی خدمت اور اپنے خسر کے لئے دُعا کی توفیق دے امین جوانی سے چوہدری صاحب نے سلسلہ کی خدمت کی۔قادیان جہاں سے وہ ہجرت کر کے آئے تھے اللہ تعالے ان کو دائمی طور پر وہیں لے جائے۔اور جس طرح زندگی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ساتھ دیا تھا۔اب وفات کے بعد دائمی طور پر ان کا قرب نصیب ہو آمین۔وو ۳ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے تحریر فرمایا چوہدری صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے رفیق ابن رفیق تھے اور ان کے داماد چوہدری عبداللہ خاں مرحوم بھی گویا پیدائشی لحاظ سے رفیق تھے اس طرح چودھری فتح محمد صاحب سیال نے گویا اوپر اور نیچے ہر دو جانب سے برکت کا ورثہ پایا تھا۔چوہدری صاحب مرحوم کو یہ امتیاز بھی حاصل تھا کہ وہ جماعت کی طرف سے پہلے مبلغ کے طور پر انگلستان میں تبلیغ ( دین حق کے لئے بھجوائے گئے اور نہ صرف ایک دفعہ بھجوائے گئے بلکہ انہیں متعد د مر تبہ تبلیغ کی غرض سے باہر جانے کا شرف حاصل ہوا۔انہیں دراصل تبلیغ کا غیر معمولی عشق تھا اور انہیں خدا نے تبلیغ کا ملکہ بھی ایسا عطا کیا تھا کہ بہت جلد اپنی دوسرے کا دل صداقت کے حق میں جیت لیتے تھے اور زمینداروں پر تو گویا اُن کا جادو و چلتا تھا پھر ملکا نہ کے علاقہ میں بھی وہ سالہا سال جماعت کی تبلیغی مہم کے نگران اور قائد رہے اور انہوں نے ایک بہت لمبے عرصہ تک مرکزی دعوت و تبلیغ اور ناظر اعلیٰ کے فرائض بھی بڑی کامیابی کے ساتھ ادا کئے اور مقامی تبلیغ کے تو وہ گویا ہیرو تھے۔جن کے ہاتھ پر بے شمار لوگوں نے صداقت کو قبول کیا۔گفتگو چوہدری صاحب بڑے سادہ مزاج اور بہت بے تکلف طبیعت کے بزرگ تھے اور گو وہ کام کی تفصیلات کو بعض اوقات بھول جاتے تھے۔مگر اصولی امور میں وہ حقیقۂ غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے۔اور ان امور میں ان کی نظر بعض اوقات اتنی گہری جاتی تھی کہ حیرت ہوتی تھی کہ ایسی سادہ طبیعت کا انسان اصولی امور میں اتنا ذہین اور اتنا دور رس ہے۔چوہدری صاحب کو ملکی تقسیم کے ایام میں ہند و سیاست کا شکار بنکر قید بھی ہونا پڑا۔مگر اس قید کا