تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 782
تاریخ احمدیت 782 جلد ۲۰ وہاں یہ کوشش فرماتے کہ اس گاؤں میں ایک بھی دوست ایسا نہ رہ جائے جو جماعت میں شامل نہ ہو۔اس کی مثال جماعت احمد یہ اٹھوال اور جماعت احمد یہ سٹھیالی ہے اور بعض دوسرے گاؤں بھی ہیں۔ایک دفعہ مجھے کلوسوہل بھجوایا گیا اور فرمایا کہ ایسے رنگ میں کام کرو کہ گاؤں کے لوگ جماعت میں شامل ہو جائیں۔چنانچہ میں نے کلوسوہل میں کام کیا۔اور ۱۲۲ را فراد کی بیعت ایک دن میں ہوئی تو بہت ہی خوش ہوئے۔حضرت چوہدری صاحب نے زمانہ اسیری ( ستمبر ۱۹۴۷ء تا اپریل ۱۹۴۸ء ) میں بھی تبلیغ کا سلسلہ بڑے زور شور سے جاری رکھا۔چنانچہ مولانا احمد خاں صاحب نیم تحریر فرماتے ہیں۔تبلیغ کے متعلق جیل کے دو واقعات بیان کرنا چاہتا ہوں۔ایک دفعہ ایک آدمی کے متعلق ہم سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ چونکہ ہر موقعہ پر کوئی نہ کوئی شرارت ہمارے خلاف کھڑی کرتا رہتا ہے اس کو چھوڑ دو اس کو کوئی بھی منہ نہ لگائے۔مکرم چوہدری صاحب نے ہم سب کو فرمایا کہ ایک کام تم سب اپنے ذمہ لے لو یا تم دعا کرو۔اور میں اس کو تبلیغ کرتا ہوں یا تم اس کو تبلیغ کرو۔میں اس کیلئے دعا کرتا ہوں۔اس طرح اس کو چھوڑ دینا ٹھیک نہیں اس پر اتمام حجت کر کے اس کو چھوڑو۔عصر کی نماز کے بعد جیل میں کچھ وقت ٹہلنے کے لئے مل جاتا تھا۔میں اور برادرم مکرم میجر شریف احمد صاحب باجوہ دونوں مل کر ٹہل رہے تھے۔ہم نے دیکھا کہ چودھری صاحب محترم چند قیدیوں کے ایک ٹولہ کے درمیان بیٹھے ہوئے ہیں جیل کے اندر تمیں چالیس افراد خارش کی وجہ سے بیمار تھے۔ان کو ایک علیحدہ بیرک میں رکھا ہو ا تھا۔ان کے ساتھ کسی کو ملنے کی اجازت نہ تھی۔تا یہ متعدی بیماری اور قید یوں میں نہ پھیل جائے۔باجوہ صاحب نے جب چودھری صاحب کو ان میں بیٹھا ہو ا دیکھا تو فرمانے لگے چودھری صاحب کیا غضب کر رہے ہیں کہ ان متعدی بیماری والوں کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ان کو روکنا چاہیئے۔جب چودھری صاحب وہاں سے اُٹھ کر واپس تشریف لائے۔تو ہم نے چودھری صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ یہ لوگ خارش کی وجہ سے بیمار ہیں۔آپ وہاں نہ جایا کریں۔چوہدری صاحب نے فرمایا کہ میں نے سوچا کہ یہ لوگ بہت تکلیف میں ہیں۔ان