تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 781 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 781

تاریخ احمدیت 781 جلد ۲۰ گورداسپور اور جالندھر جیل میں اپنے دوسرے قیدی ساتھیوں کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے اور بالآ خر ۱۰ را پریل ۱۹۴۸ء کو جالندھر جیل سے لا ہور سنٹرل جیل میں منتقل ہوئے اور یہیں سے رہا کئے گئے۔یکم راکتو بر ۱۹۵۰ء کو آپ ریٹائر ہوئے۔جس پر صدر انجمن احمد یہ پاکستان نے با قاعدہ ایک ریز و لیوشن کے ذریعہ آپ کی نمایاں اور شاندار خدمات کا اعتراف کیا۔۱۹۵۵ء میں آپ ناظر اصلاح و ارشاد اور نگران اعلی مقامی اصلاح و ارشاد مقرر ہوئے اس سال پہلے سال کی نسبت بیعتوں میں بہت خوشکن اضافہ ہوا اور پھر آہستہ آہستہ تبلیغ میں مزید وسعت اور تیزی پیدا ہوتی گئی۔آپ آخر دم تک تبلیغ دین کے جہاد میں سرگرم عمل رہے حتی کہ وفات سے قبل جس روز آپ کو دل کا دورہ ہوا اس روز بھی آپ نے با قاعدہ دفتر میں کام کیا۔اس طرح جوانی سے لیکر زندگی کے آخری سانس تک آپ کی عمر سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں گذری اور آپ خدمت دین کا فریضہ نہایت کامیابی سے بجا لاتے ہوئے اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہوئے۔حضرت چوہدری صاحب ایک مثالی داعی الی اللہ تھے اور آپ کو حق تعالیٰ نے تبلیغ حق کا بے پناہ جذ بہ عطا فر مایا تھا۔آپ کے ذریعہ ہزاروں افراد نے احمدیت قبول کی۔مولا نا احمد خاں صاحب نسیم کو قریباً اٹھارہ برس تک میدان تبلیغ میں آپ کی رفاقت کا شرف حاصل رہا۔گورداسپور اور جالندھر کی جیل میں آپ کے ساتھ رہے اور ایک ساتھ رہا ہوئے۔آپ کا چشمد ید بیان ہے کہ دو تبلیغی کا موں میں صرف مبلغین پر انحصار نہیں فرماتے تھے بلکہ خود ہر وقت تیار رہتے تھے اور ہر مبلغ کے حلقے میں خود پہنچتے تھے اور موقعہ پر حالات دیکھ کر ہدایات دیتے تھے۔ضلع گورداسپور میں تو احمدی زمینداروں کے ساتھ آپ کا پروگرام ہمیشہ طے رہتا تھا۔کہ ہر احمدی زمیندار سے دریافت فرماتے رہتے تھے کہ تمہاری کس کس گاؤں میں رشتہ داری ہے۔پھر ان کو فرماتے کہ تم میرے ساتھ میری موٹر میں بیٹھ جاؤ۔اس کو اپنی موٹر میں بیٹھا کر اس کے رشتہ داروں کے پاس پہنچ جاتے پھر ان کو پیغام حق پہنچاتے۔اس طور پر ایسی موثر تبلیغ ان کو ہو جاتی کہ بعض دفعہ ایک ملاقات میں اور بعض دفعہ ایک سے زائد ملاقاتوں میں وہ لوگ احمدی ہو جاتے۔پھر جن دیہات میں احمدیت میں شامل ہونے والے احباب اکثریت میں ہو جاتے