تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 762
تاریخ احمدیت 762 جلد ۲۰ یہ مجھے روکنے کی جرات کر رہا ہے چنانچہ اس نے پھر اسے مارنا شروع کیا۔بادشاہ یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔آخر بادشاہ نے زور سے آواز دی کہ ٹالسٹائی ادھر آؤ! یہ سن کر ٹالسٹائی بادشاہ کے پاس پہنچا اور اس کے پیچھے پیچھے شہزادہ بھی غصے سے بھرا ہوا بادشاہ کے پاس پہنچ گیا اور جاتے ہی کہا اس نالائق نے آج مجھے اندر آنے سے روکا ہے۔بادشاہ نے ٹالسٹائی سے پوچھا کیا تو نے شہزادے کو اندر آنے سے روکا تھا۔اس نے جواب دیا ہاں حضور میں نے روکا تھا۔بادشاہ نے کہا کیا تم جانتے تھے کہ یہ شہزادہ ہے؟ ٹالسٹائی نے کہا ہاں حضور مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ شہزادہ ہیں۔بادشاہ نے کہا پھر تم نے اسے کیوں روکا۔ٹالسٹائی نے کہا چونکہ حضور کا حکم تھا اس لئے میں نے انہیں اندر داخل نہیں ہونے دیا۔اس کے بعد بادشاہ نے شہزادے سے پوچھا کہ کیا تم کو اس دربان نے بتایا تھا کہ یہ بادشاہ کا حکم ہے کہ کوئی شخص اندر نہ آئے۔شہزادے نے کہا ہاں حضور بتایا تھا۔یہ سن کر بادشاہ غصے میں آ گیا اور اس نے کہا ٹالسٹائی یہ لو کوڑا اور اس شہزادے کو اتنے ہی کوڑے مار و جتنے اس نے تم کو مارے تھے۔شہزادے نے کہا اے بادشاہ روس کے قانون کے مطابق یہ مجھے نہیں مارسکتا کیونکہ میں فوجی افسر ہوں اور کوئی غیر فوجی فوجی کو نہیں مار سکتا۔بادشاہ نے کہا ٹالسٹائی میں تم کو بھی فوجی افسر بنا تا ہوں۔تم کوڑا لو اور اس کو سزا دو۔شہزادے نے کہا روس کے قانون کے مطابق یہ اب بھی مجھے نہیں مارسکتا۔کیونکہ میں جرنیل ہوں اور یہ جرنیل نہیں۔بادشاہ نے کہا ٹالسٹائی میں تم کو بھی جرنیل بنا تا ہوں۔شہزادے نے کہا بادشاہ قانون روس کے مطابق یہ اب بھی مجھے نہیں مارسکتا کیونکہ میں شاہی خاندان کا شہزادہ ہوں بادشاہ نے کہا ٹالسٹائی میں تم کو بھی کونٹ بنا تا ہوں تم اس کو سزا دو۔چنانچہ اسی وقت ٹالسٹائی کونٹ ٹالسٹائی بن گیا۔اور بادشاہ نے اس کے ہاتھوں سے شہزادہ کو سزا دلوائی۔اب دیکھو بادشاہ نے ٹالسٹائی کو ایک حکم دیا اور جب ٹالسٹائی نے اس کی بجا آوری کیلئے مار کھائی تو بادشاہ کی غیرت جوش میں آ گئی اور اس نے نہ صرف ٹالسٹائی کا بدلہ لیا بلکہ اسے ایک عام آدمی سے کونٹ بنا دیا۔اسی طرح جو لوگ خدا تعالیٰ کیلئے قربانیاں کرتے ہیں اور اس کے احکام کی بجا آوری کیلئے ہر قسم کی تکالیف برداشت کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے متعلق بھی اپنی غیرت کا اظہار کرتا ہے اور کہتا ہے، اے غریبو! کمزورو اور مفلسو ! تم نے چونکہ میری خاطر ماریں کھائی تھیں۔اور میری خاطر صعوبتیں برداشت کی تھیں۔اس لئے اب میں بھی تمہیں دنیا پر غلبہ دوں گا اور تمہیں ان انعامات سے حصہ دوں گا جو تمہارے واہمہ اور گمان میں بھی نہیں آ سکتے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ