تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 761 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 761

تاریخ احمدیت 761 جلد ۲۰ واپس لا ر ہے ہیں۔اب دیکھو حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی قربانی کس قدر عظیم الشان تھی۔عام طور پر کسی شخص کے پاؤں میں کانٹا بھی کچھ جائے یا اس کی ایک انگلی پر بھی زخم آ جائے تو وہ بے چین ہو جا تا ہے۔مگر ان کا پہلے ایک بازو کٹ گیا تو انہوں نے اپنے دوسرے بازو میں جھنڈے کو پکڑ لیا اور جب دوسرا باز و بھی کٹ گیا تو اسے رانوں میں تھام لیا۔اور جب ایک ٹانگ بھی کٹ گئی تو اس وقت انہوں نے آواز دی کہ دیکھنا اسلام کا جھنڈا سرنگوں نہ ہونے پائے اس فدائیت اور جاں نثاری کی کیا وجہ تھی ؟ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے دلوں میں یہ یقین رکھتے تھے کہ خدا نے ہمیں ایک عظیم الشان کام کیلئے پیدا کیا ہے۔اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کے لئے اپنی موت تک جد و جہد کرتے چلے جائیں، جب یہ یقین اور ایمان کسی جماعت کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ خدا تعالیٰ کیلئے ہر قسم کی مشکلات کو دیوانہ وار برداشت کرنے کیلئے تیار ہو جاتی ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی غیرت بھی یہ برداشت نہیں کر سکتی کہ وہ تو خدا تعالیٰ کیلئے اپنی جانیں قربان کریں اور خدا تعالیٰ ان کی تائید نہ کرے۔کونٹ ٹالسٹائی جو روس کا مشہور مصنف گذرا ہے اس کے ایک دادا کے متعلق ذکر آتا ہے کہ وہ شہنشاہ روس کی ڈیوڑھی کا دربان تھا۔ایک روز بادشاہ نے ملکی حالات پر غور کرنے کیلئے قلعہ کے دروازہ پر ٹالسٹائی کو کھڑا کیا اور کہا کہ آج خواہ کوئی شخص آئے اس کو اندر نہ آنے دیا جائے۔کیونکہ آج میں ملک کیلئے ایک بہت بڑی سکیم سوچ رہا ہوں۔ٹالسٹائی پہرے پر کھڑا ہو گیا اور بادشاہ ایک بالا خانہ پر بیٹھ کر سکیم سوچنے لگ گیا۔ابھی تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ بادشاہ کو شور کی آواز سنائی دی اور وہ ادھر متوجہ ہو گیا۔واقعہ یہ ہوا کہ شاہی خاندان کا ایک شہزادہ کسی کام کیلئے بادشاہ سے ملنے گیا مگر دربان نے اسے اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ بادشاہ نے حکم دیا ہے کہ آج کوئی شخص اندر نہ آئے۔دربان کا یہ کہنا تھا کہ شہزادہ طیش میں آ گیا اور اس نے خیال کیا کہ ایک معمولی نوکر کی کیا حیثیت ہے کہ وہ اتنی گستاخی کرے اور مجھے اندر جانے سے روکے۔اس نے کوڑا اُٹھایا اور دربان کو مارنا شروع کر دیا۔دربان بیچارہ سر جھکا کر مار کھاتا رہا۔جب شہزادے نے سمجھا کہ اب اسے کافی سزا مل چکی ہے تو اس نے پھر اندر جانا چاہا۔مگر دربان پھر سامنے آ گیا اور کہنے لگا میں آپ کو اندر نہیں جانے دوں گا۔شہزادے کو خیال آیا کہ شاید یہ دربان مجھے پہچان نہیں سکا۔اس لئے اس نے دربان سے کہا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟ دربان نے کہا ہاں میں جانتا ہوں آپ شاہی خاندان کے فلاں شہزادہ ہیں۔یہ سن کر شہزادے کو اور غصہ آیا کہ با وجود جاننے کے کہ میں شہزادہ ہوں پھر بھی