تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 719
تاریخ احمدیت 719 جلد ۲۰ سے بہتر بنانے اور اپنے پیچھے بہتر حالت میں چھوڑنے کی تدبیر کریں۔ہمارے سامنے یہ تلخ حقیقت موجود ہے کہ جماعت میں بعض اعلیٰ پائے کے اصحاب جو علم وفضل میں بہت اعلیٰ مقام رکھتے تھے جب وہ فوت ہوئے تو ان کے ساتھ ہی ان کا علمی اور روحانی ورثہ بھی ختم ہو گیا ترقی کرنے والی جماعتوں کیلئے یہ صورت حال بڑی تشویشناک ہے پس انصار اللہ کو چاہیئے کہ اس بات کا محاسبہ کرتے رہیں اور مسلسل نگرانی رکھیں کہ ان کے پیچھے ان کی اولاد میں دین کا ورثہ ضائع نہ ہو۔یہ وہ بات ہے جس کا حضرت مسیح موعود کو بھی اپنی اولاد کے متعلق بے حد خیال تھا چنا نچہ آپ اپنی ایک نظم میں اپنے بچوں کے متعلق فرماتے ہیں۔ے یہ ہو میں دیکھ لوں تقوی سبھی کا جب آوے وقت میری واپسی کا اس دھو کہ میں نہیں رہنا چاہیئے کہ چونکہ ہم خود نیک اور دیندار ہیں اس لئے ہماری اولا د بھی لازماً نیک ہوگی۔قرآن مجید فرماتا ہے۔يخرج الحي من الميت ويخرج الميت من الحي یعنی خدا کا یہ قانون ہے کہ مُردہ لوگوں میں سے زندہ لوگ پیدا ہو جاتے ہیں اور 66 زندہ لوگوں کے گھر مُردہ بچے جنم لیتے ہیں۔“ چنانچہ حضرت سلیمان کے متعلق خدا فرماتا ہے کہ :۔القينا على كرسيه جسدا " یعنی جب سلیمان جو خدا کا ایک عظیم الشان نبی تھا فوت ہوا تو اس کے تخت پر ایک گوشت کا لوتھڑا تھا۔انسان نہیں تھا۔“ پس یہ مقام خوف ہے اور اس کی طرف انصار اللہ کو خاص توجہ دینی چاہیئے۔دوستو اور عزیز و ! اپنے گھروں میں علم اور دین اور تقویٰ کی شمع روشن رکھو۔تا ایسا نہ ہو کہ آپ کے بعد یہ روشنی ختم ہو جائے اور صرف اندھیرا ہی اندھیرا رہ جائے۔مجھے اس وقت حضرت خلیفہ : اصیح ایدہ اللہ بنصرہ کا یہ دردناک شعر یاد آ رہا ہے کہ :۔ے ہم تو جس طرح بنے کام کئے جاتے ہیں آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی المصلح موعود نے اس خصوصی اجتماع کیلئے ایک نہا یت روح پرور پیغام عطا فرمایا جسے صدر مجلس انصار اللہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے آخری اجلاس میں پڑھ کر سنایا اور تحریک جدید کی اہمیت پر ایک پُر جوش اور ایمان افروز