تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 718
تاریخ احمدیت 718 جلد ۲۰ امتیازی نام سے یاد کیا ہے۔اور بنیان مرصوص وہ ہوتی ہے جو آپس میں اس طرح پیوست ہو کہ کوئی چیز اس میں رخنہ نہ پیدا کر سکے اور یہ بات قربانی کی روح کے بغیر ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔اگر ہر شخص کو یہ خیال ہو کہ ہر حال میں میری ہی بات مانی جائے اور میری ہی رائے کو قبول کیا جائے تو یہ بد ترین قسم کا تکبر ہے جو جماعت کے اتحاد کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو یہ فرمایا ہے کہ نیچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذکل اختیار کرو اس میں یہی نکتہ مد نظر ہے کہ بعض اوقات انسان کو اتحاد کی خاطر اپنے آپ کو حق پر سجھتے ہوئے بھی اپنی رائے کو چھوڑنا پڑتا ہے دوستوں کو چاہیئے کہ اس نکتہ کو ہمیشہ یا درکھیں۔دو جہاد فی سبیل اللہ کے تعلق میں آپ کا کام دو میدانوں سے تعلق رکھتا ہے۔ایک میدان تبلیغ کا میدان ہے۔یعنی غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا اور اپنے مسلمان بھائیوں کے دلوں سے احمدیت کے متعلق غلط فہمیوں کو دور کرنا۔یہ ایک بڑا نا زک اور اہم کام ہے جس کیلئے آپ صاحبان کو خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بے اصول لوگوں نے اسلام اور احمدیت کے متعلق غلط فہمیوں کا ایک وسیع جال پھیلا رکھا ہے۔اس جال کے کانٹوں کو اپنے رستہ سے ہٹا نا آپ لوگوں کا فرض ہے۔مگر اس تعلق میں اس قرآنی آیت کو کبھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ :۔ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة و جادلهم بالتي هي احسن یعنی لوگوں کو نیکی کے رستہ کی طرف محبت اور حکمت اور نصیحت کے رنگ میں بلا ؤ اور ایسا طریق اختیار نہ کرو جس سے دوسروں کے دل میں نفرت اور دُوری کے خیالات پیدا ہوں بلکہ اپنے اندر ایک ایسے روحانی مقناطیس کی صفت پیدا کر وجس سے سعید لوگ خود بخود آپ کی طرف کھچے چلے آئیں۔دوسرا میدان تربیت سے تعلق رکھتا ہے یعنی اپنے آپ کو اور اپنے دوستوں کو اور سب سے بڑھ کر اپنے اہل وعیال کو اسلام اور احمدیت کی دلکش تعلیم پر قائم کرنا۔یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہے بلکہ بعض لحاظ سے تبلیغ سے بھی زیادہ نازک اور اہم ہے۔جماعت جوں جوں تعداد میں بڑھتی جاتی ہے اور حضرت مسیح موعود کے زمانہ سے بعد ہوتا جاتا ہے اس کام کی اہمیت بھی بہت بڑھتی جاتی ہے۔آپ لوگوں کو عہد کرنا چاہیئے کہ آپ پوری توجہ کے ساتھ اس بات کی کوشش کریں گے کہ اپنی عورتوں کو خلاف شریعت رسموں سے باز رکھیں اور اپنی اولا دکو نیکی کے رستہ پر چلائیں اور اپنے بچوں میں سے کم از کم ایک بچہ کوعلم اور عمل میں اپنے