تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 712
تاریخ احمدیت 712 جلد ۲۰ خدمت میں لگ جائیں اس کے بغیر نہ تو مجلس انصار اللہ حقیقی معنی میں انصار اللہ کہلا سکتی ہے او نہ یہ رسالہ بیچ طور پر خدا تعالیٰ کا ناصر و مددگار سمجھا جا سکتا ہے۔ہے رسالہ انصار اللہ کے مضامین اعلیٰ درجہ کے علمی اور تحقیقی ہونے چاہیئیں اور اس رسالہ کو اپنے بلند معیار سے ثابت کر دنیا چاہیے کہ حقیقتہ مذہب اور اور سائنس میں کوئی ٹکراؤ کرد اور تضاد نہیں کیونکہ وہ دونوں ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں۔سچا مذہب خدا کا قول جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اس دنیا پر نازل ہوا اور پھر آپ کے خادم اور ظل حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے ذریعہ اس نے اس زمانہ میں نئی روشنی پائی۔اور سچی سائنس خدا کا فعل ہے جو خدا کی پیدا کی ہوئی نیچر کے پردوں میں مستور رہ کر زمانہ کی ضرورت کے مطابق ظاہر ہوتی رہتی ہے۔اگر ان دونوں میں کوئی ٹکر ا ؤ سمجھا جاتا ہے تو وہ یقیناً نظر کا دھوکا ہے یعنی یا تو کسی معاملہ میں مذہب کو ٹھیک طرح نہیں سمجھا گیا اور یا سائنس کی کسی تحقیق کرنے والوں کو ٹھوکر لگی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء اور آپ سے تربیت یا فتہ اصحاب کے لٹریچر نے اس نام نہا د تضاد کو بیشتر صورتوں میں صاف کر دیا ہے اور اگر کوئی ظاہری تضاد باقی ہے تو وہ بھی انشاء اللہ جلد صاف ہو جائے گا۔رسالہ انصار اللہ کو اس کام میں خاص حصہ لینا چاہیئے۔یا د رکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کیلئے بڑے بڑے عظیم الشان کارنامے مقدر ہیں۔حضرت مسیح موعود نے ایک جگہ خدا سے علم پا کر لکھا ہے کہ :۔” میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے ٹور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رُو سے سب کا منہ بند کر دیں گے اور ہر ایک قوم اس چشمے سے پانی پئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھو لے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جائیگا۔" ( تجلیات الہیہ صفحہ ۱۷) پس اے میرے عزیز و اور دوستو اور بزرگو یہی میرا پیغام ہے اور اسی مقصد و منتہا کیلئے آپ سب کو کوشش کرنی چاہیئے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔آمین خاکسار مرزا بشیر احمد حال لاہور ۲۰ را کتوبر ۱۹۶۰ء اس پیغام کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے بھارت کے احمدیوں کو اس کی خریداری کی پر زور تحریک بھی فرمائی چنانچہ آپ نے مولا نا عبدالرحمن صاحب جٹ فاضل ناظر اعلیٰ کے نام مکتوب لکھا کہ :۔