تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 711 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 711

تاریخ احمدیت 711 جلد ۲۰ چنانچہ ہم بسم الله مجرها و مرسها کہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ اس کا آغاز کرتے ہیں۔ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری مدد فر مائے اور ہمیں اس مقصد عظیم میں اپنے فضل سے کامیاب کرے اور ہماری اس سعی کو قبول فرماتے ہوئے اسے نصرت دین کا ایک مؤثر ذریعہ بنا دے کیونکہ نصرت دین ہی ہم سب کی زندگی کا مقصد وحید اور نصب العین ہے۔امین یا ارحم الراحمین۔پرا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اس رسالہ کے اجراء پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے حسب ذیل پیغام دیا جو پہلے شمارہ کے صفحہ ۷ - ۸ میں رسالہ ”انصار اللہ کا خیر مقدم کے عنوان سے سپر دا شاعت ہوا۔وو " مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک ماہوار رسالہ انصار اللہ کے نام سے جاری کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے جو مجلس انصاراللہ مرکز یہ کا ترجمان ہو گا۔مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ میں اس رسالہ کے پہلے نمبر کیلئے کوئی پیغام لکھ کر ارسال کروں۔پہلے تو میں حیران ہوا کہ جب کہ میں خود بھی مجلس انصار اللہ کا ممبر ہوں تو میری طرف سے کسی پیغام کے کیا معنے ہیں۔لیکن پھر میں نے سوچا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لنفسك عليك حق یعنی اے انسان تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے۔تو میں نے اس خدمت کیلئے اپنے آپ کو تیا ر پایا۔جیسا کہ اکثر ناظرین کو معلوم ہے انصار اللہ کا لفظ خو د قرآن مجید نے استعمال کیا ہے اور استعمال بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں کے تعلق میں کیا ہے اسلئے اس لفظ کو ہماری جماعت کے ساتھ خاص نسبت ہے کیونکہ ہماری جماعت کے مقدس بانی کا مثیل مسیح ہونے کا خصوصی دعوی تھا۔پس رسالہ انصار اللہ کیلئے میرا پیغام بھی انصار اللہ ہی کے لفظ میں مرکوز ہے۔اس رسالہ کے ایڈیٹروں کو چاہیئے کہ خود بھی انصار اللہ یعنی خدا کے مددگار بنیں اور رسالہ کے نامہ نگاروں کو بھی تلقین کریں کہ وہ اپنے تمام مضامین کو اسی مرکزی محور کے ارد گرد چکر دیں۔اس وقت دنیا نے موجودہ زمانہ کی مادی تہذیب و تمدن کے اثر کے ماتحت خدا کو گو یا اکیلا چھوڑا ہوا ہے۔انصار اللہ کو چاہیئے کہ سب سے پہلے قرآن وحدیث کا مطالعہ کر کے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لڑریجر کو گہری نظر سے دیکھ کر خدا کا منشاء معلوم کریں کہ وہ اس بارہ میں کیا چاہتا ہے۔یعنی وہ کن خرابیوں کو مٹانا چاہتا ہے اور کن خوبیوں کو قائم کرنا چاہتا ہے اور پھر اس مطالعہ کے بعد اپنی تمام قوتوں اور تمام ذرائع کے ساتھ خدا کی