تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 705
تاریخ احمدیت 705 جلد ۲۰ مشن ہمبرگ کے امام کے ماتحت ہیں دوسری عالمگیر جنگ سے پہلے جرمنی میں صرف دو عبادت گا ہیں تھیں مگر دونوں ہی پرائیویٹ ملکیت تھیں۔برلن کی مسجد جو جنگ میں بدقسمتی سے بُری طرح شکستہ ہوئی ایک پاکستانی شہری کی ملکیت ہے۔ابتداء میں یہ بھی احمد یہ تحریک کی ملکیت تھی۔ہیڈن برگ کی مسجد جو بد قسمتی سے سویز شکاریوں کی جنت بن گئی ہے قصبہ شوئز نگٹن میں واقعہ ہے اس مسجد میں نما زنہیں ہوتی کم سے کم اس میں کوئی مسلم امام نہیں ہے۔اس طرح جنگ کے بعد اہل اسلام کے لئے کوئی پبلک عبادت گاہ جرمنی میں نہیں تھی۔۱۹۵۵ء میں حضرت امام جماعت احمد یہ ہمبرگ تشریف لائے جہاں آپکا استقبال بلد یہ اور مغربی جرمنی کے دوسرے اسلامی مراکز کے طریقہ سے کیا گیا اس تشریف آوری کے نتیجہ میں جرمنی میں اسلامی مشن کی توسیع کیلئے تجاویز کی گئیں۔۱۹۵۷ء اسلام کیلئے جرمنی میں مبارک سال تھا ان تجاویز کا نتیجہ عملی طور پر یہ نکلا کہ ہمبرگ سیلنجن میں جماعت کی پہلی بیت الذکر تعمیر ہوئی۔اس کے بعد فرینکفورٹ آن مین میں ۱۲ ستمبر ۱۹۵۹ء کوایکیبیت الذکر تعمیر ہوئی یہ دو بیوت الذکر جو جرمنی میں پہلی پبلک عبادت گاہیں ہیں احمدی مستورات کی کوشش کا نتیجہ ہیں۔پاکستانی مستورات نے اپنے زیورات اور سنگار کو قربان کر دیا تا کہ انکے جرمن بھائی اور بہنیں نماز کیلئے دو بیوت الذکر حاصل کر سکیں۔اسلامی مشنری سرگرمیوں کا مقصد ان تمام اسلامی سرگرمیوں کو دیکھ کر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مغربی جرمنی میں تبلیغی سرگرمیوں کا مقصد کیا ہے اور اس سے کیا توقعات وابستہ ہیں۔اس سوال کا جواب آسانی سے دیا جا سکتا ہے تحریک احمدیہ کی منزل مقصود یہ ہے کہ تفہیم با ہمی کو تقویت دی جائے حق کی خدمت کی جائے اور دوستی اور انصاف کے میدان کو وسیع سے وسیع تر کیا جائے یورپ نے اسلامی ممالک کو اور اسلام کو مادی ترقیات سے فیضیاب کیا ہے۔اسلام اس کے عوض میں یورپ میں مذہب کی صحیح روح کو زندہ رکھنا چاہتا ہے۔اسلام یورپ میں باغیوں کیلئے کشش اور مغربی مایوسوں کیلئے مرکز مہیا کرنے کی تلاش میں نہیں ہے بلکہ ان تمام نیک بندوں کا ماویٰ ہے جو اللہ تعالیٰ کے متلاشی ہیں۔عیسائی ہمارے دشمن نہیں ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے یقینا تم ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ ہم عیسائی ہیں مومنوں کے ساتھ محبت میں زیادہ قریب پاؤ گے۔