تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 675 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 675

تاریخ احمدیت 675 جلد ۲۰ ابدی بھی نہیں ہیں۔ابدی اور حقیقی مسرت تو اللہ تعالیٰ کے پیار میں انسان کو ملتی ہے اور اسی کی طرف رجوع کر کے اس کے پیار کو ہمیں حاصل کرنا چاہیئے۔آج اس نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کر کے ہمیں یہ وعدہ دیا ہے کہ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس موعود عظیم روحانی فرزند کی باتوں کو سنو اور غلبہ اسلام کی جو مہم اس نے جاری کی ہے۔اس میں حصہ لو معمولی حصہ نہیں بلکہ انتہائی حصہ ساری دنیا کی لذتوں اور دولتوں کو بھول کر اس حقیقی لذت اور حقیقی دولت کی تلاش کرو جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔پس اگر تم حقیقی معنی میں پورے اخلاص کے ساتھ خدا کے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف رجوع کرو گے اور تو حید حقیقی پر پوری طرح قائم ہو جاؤ گے اور بے نفس محبت اسلام سے کرو گے اور قرآن کریم کی عظمت کو دلوں میں بٹھا ؤ گے اور خدا تعالیٰ کی رضا کے متلاشی رہو گے اور خدا تعالیٰ کے لیئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت ساری دنیا کے دل میں بٹھانے کی کوشش کرو گے تو اپنے لیئے اللہ تعالے کے پیار کو حاصل کر لو گے۔اگر نہیں کرو گے تو دنیا تو تباہی کی طرف جا رہی ہے تم اس قافلہ کے ساتھ کیوں شامل ہونا چاہتے ہو جس کے لیئے ہلاکت مقدر ہو چکی ہے تم اس جماعت میں پوری طرح اور اخلاص سے کیوں رہنا نہیں چاہتے کہ جس کے لیئے دنیا کی عزتیں اور آخرت کی عزت مقدر ہو چکی ہیں اور جو پیدا ہی اس لیئے کئے گئے ہیں کہ اللہ تعالے انہیں اپنی رحمتوں سے اپنے فضلوں اور پیار سے نوازے۔۔خدا تعالے آپ کو بھی اور ہمیں بھی اور دنیا میں ہر جگہ بسنے والے احمد یوں کو بھی یہ توفیق عطا کرے کہ سب احمدی انفرادی طور پر بھی اور جماعتی لحاظ سے بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگیں اور جو کام اللہ تعالیٰ نے ان کے سپر د کیا ہے خدا تعالیٰ کی رضا کے لیو ہ اس کام میں ہمہ تن مشغول رہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کو پائیں اور ابدی جنتوں کے وہ وارث ہوں آمین اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔السلام علیکم “ جزائر نجی کا دوسرا بڑا جزیرہ وینوالیوو ( VANUALEVU) ہے جس ۴۳ 6 - بیت مبارک کی بنیاد تھا ہیڈ کوارٹر کہا سہ شہر ہے۔۲۶ نومبر ۱۹۷۲ء کو اس شہر لمباسہ / میں مسجد مبارک کی بنیا د رکھی گئی۔اس روز جزیزہ میں واقع تمام احمدی جماعتوں نے پر جوش وقار عمل منا یا اجتماعی وقار عمل کا دلکش نظارہ ملکی شاہراہ پر آنے جانے والے ہر شخص کو متاثر کرتا تھا۔پہلی اینٹ مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری نے اور دوسری مولوی غلام