تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 665 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 665

تاریخ احمدیت ۶ 665 جلد ۲۰ طریق کار یہ تھا کہ فریقین صبح ساڑھے آٹھ بجے سے لے کر شام چھ بجے تک متواتر سوائے دو پہر کے مختصر وقفہ کے آمنے سامنے بیٹھ کر مقررہ مضمون پر پر چے لکھتے اور شام کو ساڑھے سات بجے ڈڈلی سکول کے ہال میں ہی یہ پر چیچا ضرین کو جنگی تعداد ایک سو تک محدود کر دی گئی تھی سُنا دیئے جاتے۔شرائط کے مطابق دونوں مناظروں کو کسی مددگار کے رکھنے کی اجازت نہ تھی بوقت تحریر مناظرہ صرف فریقین کی طرف سے ایک ایک نگران مقرر تھا۔اہل اسلام کی طرف سے خاکسار ( شیخ عبد الواحد ) فاضل نگران رہا عیسائیوں کی طرف سے گو بیشتر وقت پادری سمر ول جونا گپور ہندوستان میں چار پانچ سال رہ چکے ہیں اور اردو پر عبور رکھتے ہیں اور بڑی مرنجاں مرنج طبیعت کے مالک ہیں بطور نگران رہے لیکن ان کی مصروفیات کے باعث بعض دوسرے عیسائی حضرات بھی اس ڈیوٹی کو سرانجام دیتے رہے۔رمئی کی شام کو پہلے دن کے مباحثہ کی تحریر بخیر و خوبی ختم ہوئی موضوع مباحثہ تھے نمبرا توحید نمبر ۲ بائیبل کا الہام الہی ہونا۔پادری عبدالحق صاحب نے توحید کے مضمون میں حسب معمول اپنی ساحرانہ فریب کاری سے کام لیا اور اپنی منطقیانہ ادق اصطلاحوں کی بھر مار سے حاضرین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا وہ بہت بڑے فلاسفر اور علا مہ د ہر ہیں گو حاضرین ان کی باتوں کو ذرہ بھی مجھتے تھے لیکن کسی حد تک ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پادری صاحب کا سحر سامری نا واقف پبلک پر چھا رہا ہے ہمارے مناظر نیائیل سے یہ پیش کیا کہ جس حکمت و فلسفہ پر تم اتنا ناز کرتے ہوا سے تو انجیل میں بیوقوفی۔چالا کی۔باطل خیالات لا حاصل فریب اور دنیوی ابتدائی باتیں کہا گیا ہے ( عہد نامہ جدید کی کتب کرنتھیوں اور کلسیوں ) تا ہم اس روز بعض پادری صاحب کی چالاکی کا کسی حد تک شکار معلوم ہوتے تھے۔لیکن دوسرے دن اللہ تعالے نے اس پر فریب جادو کو محض اپنے فصل سے دھوئیں کی طرح اُڑا دیا۔ے رمئی کو مباحثہ کے لیے دو مضمون مقرر تھے نمبرا کیا مسیح ناصری الہ مجسم ہے؟ نمبر ۲ کیا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام مسیح موعود ہیں؟ چونکہ معلوم ہوتا ہے پادری صاحب کی کا پیوں میں محفوظ شدہ منطقیانہ نوٹ ختم ہو گئے تھے وہ کوئی خاص ٹھوس بات کرنے کی بجائے اِدھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارنے لگے۔گو بوقت تحریر بھی ان کا حال دیکھنے والا تھا جبکہ بلا مبالغہ ان کو ہوش نہ تھی کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں اور کسطرح لکھ رہے ہیں مگر شام کے اجلاس میں پر چے سناتے ہوئے تو نظارہ قابل دید تھا پادری صاحب کے واسطے اپنے ہاتھوں کا لکھا بھی پڑھنا مشکل تھا وہ شکستہ ا دل کھڑے ہوئے ان کی زبان لڑکھڑاتی اور آواز لرزتی تھی۔یہ مباحثہ بفضل خدا ایک خاص -