تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 657 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 657

تاریخ احمدیت 657 جلد ۲۰ آ کے متعلق مولوی احمد یا ر صاحب لاہوری مبلغ نے لکھا تھا کہ لوٹو کا کے بہت بڑے امیر گھرانہ کے پیغامی جماعت میں شامل ہونے کی امید ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل و رحم کے ساتھ ایک ہفتہ پیغا می مبلغ کو اپنے گھر پر رکھنے انکی مہمان نوازی کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ خلافت کی بیعت سے ہی روحانی زندگی سے ہم بہرہ ور ہو سکتے ہیں۔دو ہفتہ کے بعد اٹھارہ افراد خاندان کے ساتھ بیعت میں شامل ہو گئے۔(الحمد لله على ذالك ) بیعت کے بعد جماعت احمد یہ لوٹو کا کے پریزیڈنٹ منتخب ہوئے۔کوشش کر کے احمدیوں کی ایک ایجو کیشن کمیٹی بنائی۔پ اس ایجوکیشن سوسائٹی کے چیئر مین ہیں مکرم ڈاکٹر شوکت علی صاحب احمدی ایم۔اے۔پی۔ایچ۔ڈی اس کالج کے پرنسپل ہیں جو کہ کمیٹی ناندی میں چلاتی ہے۔مکرم ڈاکٹر شوکت علی صاحب ۱۹۶۱ء کے آخر میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے پھر آپ کاٹھیا وار گجرات ہندوستان ڈاکٹریٹ کرنے گئے واپس آ کر اسلامیہ سیکنڈری سکول لوٹو کا کے پرنسپل مقرر ہوئے۔احمدیت کی مخالفت میں انکو ہمیشہ مقابلہ کرنا پڑا۔بالآ خر محترم بزرگوار چو ہدری سرمحمد ظفر اللہ خانصاحب کے نومبر ۱۹۶۵ء میں منجی آنے پر ڈاکٹر صاحب کی احمدیت کی بہت مخالفت ہوئی جس کے نتیجہ میں وہاں سے نوکری چھوڑنی پڑی۔اللہ تعالے نے اچھا ہی کیا کہ اس تکلیف کے بدلہ اپنا کالج قائم ہو گیا۔۲۱