تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 638
تاریخ احمدیت 638 جلد ۲۰ سرے سے میرا مسلمان ہونا ہی مشکوک ہے۔چہ جائیکہ احمدی ہونا۔یہاں تو چیز صرف عمل ہے اور اس حیثیت سے میں اپنے آپ کو اور زیادہ نا اہل پا تا ہوں۔برہمن می شدم گراں قدر زنار می بستم اس لئے مناسب یہی ہے کہ مجھ سے اس قسم کا کوئی ذاتی سوال نہ کیا جائے نہ اس لحاظ سے کہ یہ بالکل بے نتیجہ سی بات ہے بلکہ اس خیال سے بھی کہ دریغا آبروئے دیر گر غالب مسلماں شد اس سلسلہ میں مجھے ایک بات اور عرض کرنا ہے وہ یہ کہ آج یا کل یقیناً وہ وقت بھی آئے گا جب میں احمدی جماعت کے مذہبی لٹریچر پر ناقدانہ تبصرہ کرونگا کیونکہ بغیر سمجھے ہوئے کسی بات کو مان لینا میرے فطری رجحان کے خلاف ہے اور احمدی جماعت کے معتقدات میں کئی باتیں مجھے ایسی بھی نظر آتی ہیں جو اب تک میری سمجھ میں نہیں آئیں۔لیکن اس کا تعلق صرف میرے ذاتی وانفردی رڈ و قبول سے ہوگا نہ کہ احمدی جماعت کے وجو د اجتماعی سے جس کی افادیت سے انکار کرنا گویا دن کو رات کہنا ہے اور دن کو رات میں نے کبھی نہیں کہا۔۵۵ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اس سال میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ناظم تعلیم وقف کا دورہ مغربی پاکستان و آزاد کشمیر جدید نے مغربی پاکستان اور آزاد کشمیر کا نہایت کامیاب ،اصلاحی تبلیغی و تربیتی دورہ فرمایا۔آپ کی تشریف آوری پر احمدی جماعتوں نے پُر جوش خیر مقدم کیا، خاص تقاریب کا انعقاد کر کے غیر از جماعت معززین کو بھی مدعو کیا۔آپ کے پُر اثر خطابات نے اپنوں اور بیگانوں کو بہت متاثر کیا اس دورہ میں مندرجہ ذیل مقامات پر آپ کی تقاریر ہوئیں :۔۱۔قاضی احمد ضلع نواب شاہ - ( مقامی جماعت کی طرف سے رئیس علی نواز خاں صاحب کے باغ میں دعوت عصرانہ کا انتظام مورخہ ۲ / جون ) وضع موبلنکی ضلع گوجرانوالہ ( جلسہ عام میں شرکت مورخہ ۱۴ / اکتوبر ) ۳۔وزیر آباد ( مقامی جماعت کے دعوت عصرانہ او ر ا جلاس عام سے موثر ۴۔کھاریاں ) مورخہ ۱۹ - ۲۰ / اکتوبر ۵ - مانسہرہ ( مورخه ۲۸ / اکتو ۶ - مظفر آباد (مورخه ۲۹ / اکتوبر ۷۔باغ شہر ( فاریسٹ ۵۷ خطا ۵۸ (