تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 628 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 628

تاریخ احمدیت 628 جلد ۲۰ فضل عمر ڈسپنسری دیکھنے کے بعد کسی کا صرف یہ کہہ دینا کہ اسے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔بڑا ناقص اعتراف ہے۔اس عظیم خدمت انسانی کا جو یہ ڈسپنسری انجام دے رہی ہے۔مارٹن روڈ اور گولیمار کے دونوں شفا خانے جنہیں خدام جماعت احمدیہ نے واقعتاً اپنے ہاتھوں سے تعمیر کیا ہے جذبہ خیر جوش عمل اور جسم و روح کی بیداریوں کی ایسی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن سے غض بصر ممکن نہیں۔ان شفا خانوں کا اصل مقصود خالصتاً للہ انسانی در دو دکھ میں شریک ہونا ہے اور اسی لئے دواؤں کے علاوہ یہاں تیمار دارا نہ غذا ئیں بھی مفت تقسیم کی جاتی ہیں اور دماغی محنت کے لئے دار المطالعہ بھی قائم کر دیا گیا ہے اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کے اس دور بے عملی میں جماعت احمدیہ کا یہ اقدام نوع انسانی کی اتنی بڑی خدمت ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی اور جس جماعت کی تعمیر اس بنیان مرصوص‘ پر قائم ہو وہ کبھی فنا نہیں ہوسکتی۔نیاز فتحپوری۔۲۱ رمئی ۱۹۶۰ء ہز ملایا کے وزیر اعظم منکو عبدالرحمن ۲۶ می ۱۹۹۰ء کو برا یکسی لینسی نکو عبد الرحمن وزیر اعظم ملا یا ہیگ کی بیت احمد یہ میں تشریف بیت احمد یہ ہیگ میں لائے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نائب صدر عالمی عدالت اور انچارج ہالینڈ مشن حافظ قدرت اللہ صاحب نے آپ کا استقبال کیا۔میٹنگ ہال میں آپ کا تعارف معززین سے کروایا گیا جو خاص طور پر اس تقریب میں شمولیت کے لیے تشریف لائے تھے۔ان معززین میں عرب جمہوریہ کے سفیر عالمی عدالت کے جج جناب بیضاوی (BADAWI) پاکستانی ایمبیسی کے کونسلر اور حکومت انڈونیشیا کا نمائندہ شامل تھے۔چند ایک مقامی احمدی بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔جن میں ڈاکٹر ملا ما آف ٹراپیکل انسٹی ٹیوٹ ایمسرڈم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے معززمہمان کا استقبال کرتے ہوئے مختصر طور پر ان شاندار خدمات کا تذکرہ کیا جو ٹنکو عبد الرحمن نے اپنے ملک کی ترقی اور بہبود کے سلسلہ میں آزادی حاصل کرنے سے قبل کیں اور اب تک سرانجام دے رہے تھے۔حافظ قدرت اللہ صاحب نے احمد یہ مشن کی طرف سے معززمہمان کی تشریف آوری کا شکر یہ ادا کیا اور اس امر پر خوشی کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم بیت احمد یہ میں تشریف لائے۔نیز کہا کہ آج کی محفل میں