تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 621 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 621

تاریخ احمدیت احمد یہ مسلم مشن اسلامک سنٹر مدراس نمبر 14 5 اپریل 1960 ء دد بر اور اسلام ! 621 بسم اللہ الرحمن الرحیم عزت مآب جمال عبد الناصر صدر جمہوریہ متحدہ عرب نزیل راج بھون۔مدراس السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ جلد ۲۰ عالیجناب کی شہر مدراس میں تشریف آوری پر ہم جماعت احمدیہ کی طرف سے خوش 66 66 آمدید کہتے ہوئے آپ کی خدمت میں اھلا و سھلا مرحبا کا تحفہ پیش کرتے ہیں۔صدر محترم ! احمدیہ تحریک آپ کے لئے کوئی عجیب وانوکھی چیز نہیں۔اس کی شاخیں اکناف عالم میں پھیلی ہوئی ہیں۔اور آپ کے وطن عزیز جمہور یہ متحدہ عرب میں بھی قائم ہیں۔آئمکرم کی ہمارے وطن ہندوستان میں تشریف آوری اپنے اندر کس قدر اہمیت رکھتی ہے۔اس سے قطع نظر کرتے اور اُفق سیاسیات سے بالا ہوتے ہوئے ہماری نظریں اُس د گرانبها خدمت پر پڑ رہی ہیں۔جو دنیائے عرب نے مذہب اسلام کے ذریعہ انسانیت اور تہذیب کی انجام دی ہے۔باقی دنیا تو آپ کی شخصیت میں صرف مصر کی سیاسی آزادی۔جمہور یہ عرب میں اصلاحات ملکی۔اور معرکہ سویز کی فتحیابی کو دیکھ رہی ہے۔مگر ہماری نگاہیں آپ کی ذات میں مستقبل میں اسلام کی سربلندی اور دنیائے عرب کی ترقی کو دیکھ رہی ہیں۔مگر ہماے اس ” مقصد اعلے“ کا حصول اُس جذبے اور ولولہ پر منحصر ہے جس کو لے کر ترقی کی شاہراہ پر چلیں گے۔اور ہم دیانتداری سے یہ محسوس کر رہے ہیں کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے صرف سیاسی بیداری ہی کافی نہیں۔بلکہ جب تک اللہ تعالے کی حکومت انسانی قلوب پر قائم نہ ہو جائے دنیا کو امن وسکون نہیں ہو سکتا۔اس لئے ہم آئمکرم کی خدمت میں خلوص قلب سے عرض کرتے ہیں کہ ہندوستان اور دنیائے عرب کے تعلقات کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جائے۔صرف سیاسی حیثیت سے نہیں بلکہ اس لحاظ سے بھی کہ پھر ہم اپنے ”خدا“ کو پالیں۔اس زمانہ میں جب کہ مادی طاقتیں اپنے عروج پر ہیں۔یہ ایک فطرتی تمنا ہے کہ ہم جمہور یہ متحدہ عرب سے توقع رکھیں کہ وہ دنیا کی گمشدہ کڑی کو واپس لائے۔وہ گمشدہ کڑی جو بندے اور اُس کے خالق و مالک سے تعلقات محبت کو از سر نو قائم کر دے۔اور حقیقت میں یہی وہ عربی روایات ہیں جنہوں نے عربی نسل کو دنیا میں ایک اتحاد پیدا کر نے والی طاقت بنا