تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 599
تاریخ احمدیت 599 جلد ۲۰ ہمیں خدا تعالیٰ نے بڑی بھاری کامیابی عطا کی ہے مگر ابھی اس میں مزید ترقی کی بڑی گنجائش ہے۔اور ابھی ہمیں ہزاروں واقفین زندگی کی ضرورت ہے جو دنیا کے چپہ چپہ پر دین حق کی اشاعت کر یں۔ہماری جماعت اب خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں کی ہے اور لاکھوں کی جماعت میں ساٹھ ہزار واقفین زندگی کا میسر آنا کوئی مشکل امر نہیں۔اور اگر ایک آدمی سو احمدی بنائے تو ساٹھ ہزار واقفین زندگی کے ذریعہ سات لاکھ احمدی ہو سکتا ہے۔پھر سات لاکھ میں سے چار پانچ لاکھ مبلغ بن سکتا ہے۔اور چار پانچ لاکھ مربی چار پانچ کروڑ احمدی بنا سکتا ہے اور چار پانچ کروڑ احمدی اگر زور لگائے تو وہ اپنی تعداد کو چار پانچ ارب تک پہنچا سکتا ہے جو ساری دنیا کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔“ 66 ازاں بعد حضرت مسیح موعود کے الہام ہے کرشن رڈ رگو پال تیری مہما گیتا میں لکھی گئی ہے کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہند وستان میں اشاعت دین کو وسیع کرنا ہمارے لئے ضروری ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ہندوستان میں دین حق کی تبلیغ پر زور دیں۔اس ملک کی ترقی اور عظمت کے قیام کے لئے مسلمانوں نے آٹھ سو سال تک کوشش کی ہے اور ہندوستان کے چپہ چپہ پر اُن محبان وطن کی لاشیں مدفون ہیں جنہوں نے اس کی ترقی کے لئے اپنی عمر میں خرچ کر دیں تھیں پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم دین حق کے خوبصورت اصول پیش کر کے ہندؤوں اور سکھوں کو بھی اپنا جز و بنانے کی کوشش کریں جب تک ہم ہندؤوں میں تبلیغ نہیں کریں گے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کرشن ثابت نہیں ہو سکتے۔اپریل ۱۹۰۲ ء میں حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا کہ وو دو دفعہ ہم نے رویاء میں دیکھا کہ بہت سے ہندو ہمارے آگے سجدہ کرنے کی طرح جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اوتار ہیں اور کرشن ہیں اور ہمارے آگے نذریں دیتے ہیں۔ا حضرت مصلح موعودؓ نے یہ رویاء بیان کرنے کے بعد اپنے روح پرور خطاب کے آخر میں فرمایا اس سے پتہ لگتا ہے کہ ہندوؤں میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت قائم ہو جائے گی اور سارا ہندوستان آپ کے کرشن ہونے کے لحاظ سے اور ساری دنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہونے کے لحاظ سے آپ کے تابع ہو جائے گی۔اسی غرض کے لئے میں نے جماعت میں تحریک جدید کے علاوہ وقف جدید کی تحریک بھی جاری کی ہوئی