تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 596 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 596

تاریخ احمدیت 596 جلد ۲۰ فرمایا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کی تقریر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی سیرت طیبہ سے متعلق تھی اور بہت ایمان افروز واقعات پر مشتمل تھی آپ کی پُر اثر اور پُر شکوہ آواز نے دلوں کو چلا اور روحوں کو ایک نئی زندگی بخشی۔آپ کی یہ تقریر بہت مقبول ہوئی اور جلد ہی پہلے الفضل میں پھر کتابی شکل میں شائع کر دی گئی۔اجلاس دوم میں شیخ بشیر احمد صاحب حج ہائیکورٹ لاہور صدر تھے جس میں پہلے خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری صاحب نے ایک پُر مغز اور مبسوط تقریر فرمائی پھر حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے سورہ فاتحہ کی نہایت لطیف اور پُر معارف تفسیر فرمائی۔جو قرآنی حقائق و دقائق سے لبریز تھی۔شیخ بشیر احمد صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں حضرت مصلح موعود کی شفایابی کے لئے نهایت در دانگیز انداز میں تحریک دعا کی آپ کی آواز میں ایسا سوز اور اثر تھا کہ ایک ایک فقرہ احباب کے دلوں میں اُترتا گیا۔آپ کی درخواست پر حضرت مولانا راجیکی صاحب نے اجتماعی دعا کرائی یہ دعا اس درد و کرب سے مانگی گئی کہ جلسہ گاہ میں آہ و بکا اور گریہ و زاری سے ایک حشر بپا ہو گیا ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل تڑپ رہا تھا۔سوز و گداز کا یہ عالم ہیں منٹ تک جاری رہا جس کے بعد حضرت مولانا صاحب نے بلند آواز سے آمین کہہ کر دعا کوختم کیا اور صاحب صدر نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے اجلاس کے اختتام کا اعلان فرمایا۔تیسرا دن جلسہ کے تیسرے روز کا پہلا اجلاس بھی شیخ بشیر احمد صاحب کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈاکٹر چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر ایم اے پی ایچ ڈی امریکہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نا ئب صدر عالمی عدالت انصاف ہیگ اور مولانا ابو العطاء صاحب نے فکر انگیز تقاریر فرمائیں۔نماز ظہر و عصر مولانا جلال الدین صاحب شمس نے جمع کر کے پڑھا ئیں۔حضرت مصلح موعود کی متوقع آمد اور تقریر کے پیش نظر احباب کا اشتیاق عروج پر تھا۔جلسہ گاہ وقت سے بہت پہلے بھر گئی اور ہر طرف ہجوم خلائق کا منظر دکھائی دیتا تھا اور تل دھر نے کو جگہ نہ رہی امام عالی مقام کی تشریف آوری سے قبل منتظمین جلسہ نے حضور کی جلسہ سالانہ ۱۹۵۳ء کے موقع کی پر معارف تقریر کے ابتدائی حصہ کا ریکارڈ سنانے کا انتظام کیا جس سے پورے مجمع پر رقت طاری ہو گئی۔حضور سوا دو بجے کے قریب بذریعہ کا رجلسہ گاہ میں رونق افروز ہوئے اور جلسہ گاہ پُر جوش نعروں سے گونج اٹھا۔