تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 586 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 586

تاریخ احمدیت 586 جلد ۲۰ فصل دوم اکٹر پروفیسر عبدالسلام صاحب ۷/جنوری ۱۹۶۰ء کو بھارت کے شہر بمبئی میں ۴۷ ویں آل انڈیا سائنس کانگرس منعقد ہو رہی تھی۔کا یاد گار دورہ بھارت مشہور عالم پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر محمد عبد السلام سے درخواست کی گئی کہ وہ اس بین الاقوامی کانگرس سے خطاب فرمائیں نیز بھارت کی یو نیو رسٹیوں کو بھی اپنے علمی لیکچروں سے نوازیں۔ڈاکٹر صاحب نے یہ درخواست قبول کر لی آپ لنڈن سے ۲۱ / دسمبر ۱۹۵۹ء کو بذریعہ ہوائی جہاز دہلی پہنچے اور اگلے روز ۲۲ / دسمبر کو دہلی یو نیورسٹی میں لیکچر دیا جو ایک گھنٹہ تک جاری رہا۔اس موقع پر بھارت کے ممتاز سائنسدان، ماہرین طبعیات، ممتاز سکالر اور دانشور موجود تھے۔آپ کا تجر علمی، خود اعتمادی اور موثر انداز بیان اُن سے خراج تحسین وصول کئے بغیر نہ رہا۔موضوع خالص علمی تھا اور سائنسی سوالات کی بوچھاڑ تھی مگر ڈاکٹر صاحب نے اپنے مدلل، بر جستہ اور معلومات افروز جوابات سے سامعین کو مسحور کر دیا۔۲ جنوری ۱۹۶۰ء کو آپ بمبئی تشریف لے گئے اور ۷/جنوری کو آپ نے آل انڈیا سائنس کانگرس میں معرکہ آرا لیکچر دیا۔کانفرنس میں تین ہزار مند وب شامل ہوئے جن میں ستر سے زیادہ غیر ملکی نامور سائنسدان تھے۔آپ کا انداز فاضلانہ اور طرز ادا بہت دلکش تھی۔آپ نے حیرت انگیز ایمانی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا لیکچر قرآن مجید کی مبارک آیات پر ختم کیا۔اسٹیج سے اترتے ہی آپ کو ایک جم غفیر نے گھیر لیا۔حاضرین اس عظیم سائنسدان کی یہ مقبولیت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔بھارتی پریس نے بھی اگر کسی سائنسدان کا خصوصی ذکر کیا تو وہ آپ ہی تھے۔چنانچہ اخبار ٹائمز آف انڈیا (بمبئی) نے ۸/جنوری ۱۹۶۰ء کو صفحہ اول کے چوکھٹا میں نوٹ لکھا کہ " سائنسدان عوام میں غیر مقبول ہوتے ہیں مگر رات جب پر و فیسر عبد السلام صاحب تقریر کر کے سائنس کانگرس کے پنڈال سے اترے تو یہ بات غلط ثابت ہو گئی۔سامعین نے آپ کی شخصیت سے گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور دیر تک