تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 573 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 573

تاریخ احمدیت 573 جلد ۲۰ تحت آپ نے یہاں تشریف لانے کی زحمت اٹھائی ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے میرے لئے یہ اور بھی زیادہ ضروری ہو جاتا ہے کہ میں آپ کو دین حق کو طرف دعوت دوں اور اس کی بے نظیر تعلیم کا مطالعہ کرنے کی طرف توجہ دلاؤں۔(۲) بلا شبہ آپ بخوبی واقف ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ انجیل کے بیان کے مطابق یسوع مسیح کا اپنا فرمان یہ ہے کہ درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔اسی طرح یسوع مسیح نے یہ بھی کہا ہے کہ :۔اگر تم میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا تو اس پہاڑ سے کہہ سکو گے کہ یہاں سے سرک کر وہاں چلا جا اور وہ چلا جائے گا۔اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہ ہو گی پھر یہ بھی اسی کا فرمان ہے کہ :۔وو جو کچھ تو خدا سے مانگے گا وہ تجھے دے گا۔66 مسیح کے یہ اقوال ایک ایسے معیار کی حیثیت رکھتے ہیں جس کی مدد سے کسی مذہب کی صداقت کو بآسانی پر کھا جا سکتا ہے۔اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ آیا اس معیار مذاہب کی صداقت کو پر کھنے کا اس سے بڑھ کر اور کوئی موقع ہو گا جبکہ آپ مشرقی افریقہ کے لوگوں کی بھلائی کی خاطر خود یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں۔آپ نے بڑے بڑے شاندار مقالے رقم فرمائے ہیں اور مروجہ عیسائیت کی تائید میں بڑی زور دار اور گرما گرم تقاریر کی ہیں لیکن اگر خود یسوع مسیح کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق آپ کے اپنے مذہب کی صداقت عملاً دنیا پر ظاہر ہونے کی صورت نکل آئے تو یہ بات آپ کی ان تمام مساعی پر جو اب تک آپ کر رہے ہیں سبقت لیجائیگی۔(۳) اس کے بالمقابل میرا دعویٰ یہ ہے کہ آج روئے زمین پر صرف اور صرف اسلام ہی وہ ایک زندہ مذہب ہے جس پر عمل کر کے لوگ نجات یافتہ قرار پا سکتے ہیں۔اور یہ کہ مروجہ عیسائیت آسمانی تائید و نصرت اور انسانوں کی حقیقی رہنمائی کے وصف سے یکسر بے بہرہ ہے۔لہذا میں عوام کی بھلائی کی خاطر پوری عاجزی اور اخلاق کے ساتھ آپ کو ایک ایسے مقابلے کی دعوت دیتا ہوں جس کے ذریعہ ہم اپنے اپنے مذہب کی صداقت کو آشکار کر سکتے ہیں۔۔(۴) مقابلے کا ایک طریق یہ ہے کہ تمیں ایسے مریض لے لئے جائیں کہ جو میڈیکل