تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 559 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 559

تاریخ احمدیت 559 جلد ۲۰ کریم انگریزی، ٹیچنگ آف اسلام، مسیح کہاں فوت ہوئے ؟ اور دیگر پمفلٹ تحفہ پیش کئے۔یہ لٹریچر تو اُنہوں نے رسمی شکر یہ کیسا تھ قبول کر لیا مگر مناظرہ سے بالکل انکار کر دیا اور اچانک اٹھ کھڑے ہوئے اور وقت نہ ہونے کا عذر کر کے دوسرے کمرے کی طرف چل دئے _ نائیجیر یا ڈاکٹر بلی گراہم کے اس ریز پر لائبیر یا پولیس نے کوئی نوٹس نہ لیا اور وہ نائیجیر یا آ گئے۔جہاں قدم رکھتے ہی احمد یہ مشن نائیجیریا کی دعوت مناظرہ کا اخبارات میں غیر معمولی چر چا شروع ہو گیا۔اگر چہ مسیحی کلیسیا کے منتظمین قبل از میں اس چیلنج کو قبول کرنے سے انکار کر چکے تھے تا ہم عوام اور خصوصاً مسلمانوں کو اُن کی آمد پر خاصی دلچسپی پیدا ہو گئی اور امید بندھی کہ اس علمی مقابلہ کی کوئی صورت نکل آئے گی لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ڈاکٹر بلی گراہم سے آبادان کے اخبار نویس نے دریافت کیا کہ کیا وہ اسلام اور عیسائیت کے متعلق اس اہم چیلنج کو قبول کریں گے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس سوال کا جواب دینے کیلئے تیار نہیں۔یہ الفاظ انکی بے بسی اور بے چارگی کی منہ بولتی تصویر تھے۔اس اجمال کی ایمان افروز تفصیل مولانا نسیم سیفی صاحب مبلغ نائیجیریا کے قلم۔درج ذیل ہے :۔۱۹۵۵ء ہی کے جولائی اگست میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالے بنصرہ العزیز نے یورپ امریکہ اور افریقہ کے مبلغین کی لندن میں کا نفرنس بلا کی تھی اور حضور نے فرمایا تھا کہ میں قضیہ زمین بر سر زمین ہی طے کر دینا چاہتا ہوں۔یہ کہ ڈاکٹر گراہم نے اس کا نفرنس کے دو تین ماہ بعد ہی دورہ افریقہ کے ارادے کا اظہار کیا۔یا یہ کہ نائیجیریا کی کرسچین کونسل نے اس کے انتظامات اپنے ہاتھ میں لینے کی پیش کش کی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مبلغین کی لندن والی کانفرنس فی الواقعہ قضیہ زمین بر سرزمین ہی چکا دینے والی بات تھی۔بہر حال کسی نا معلوم وجہ کی بناء پر ڈاکٹر بلی گراہم مزید چار سال تک افریقہ کا دورہ نہ کر سکے۔جنوری ۱۹۶۰ء میں ان کی آمد کا ایک دفعہ پھر چرچا ہو ا۔بڑے بڑے شہروں میں قد آدم پوسٹر لگائے گئے۔اخبارات میں موٹر کاروں کے اشتہارات کی طرح اشتہار دیے گئے۔اور آخر کار ان کا ہر اول دستہ آ پہنچا اور لوگوں کو یقین ہو گیا کہ اب تو وہ ضرور ہی آئیں گے۔