تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 40
تاریخ احمدیت 40 مختلف گوٹھوں میں جائے اور رات کو واپس سنٹر میں آئے۔مکرم محمد شریف صاحب کھوکھر کو تار دیا جائے تا کہ جلد واپس آجائیں۔یہاں پر کام بڑھ رہا ہے۔از آں سوا ایک اور معلم کو بھی بھجوایا جائے۔حالانکہ کافی لوگ اس علاقہ کے سندھ چلے گئے ہیں۔لیکن احمدی ہونے کے لئے پھر بھی کافی موجود ہیں۔اور یـــدخـلـون فـي ديـن الـلـه افواجا کی روچل رہی ہے۔رکی نہیں۔“۔پھر ایک اور خط میں لکھتے ہیں:۔پچھلے دنوں جو چند شرانگیز لوگوں نے طوفانِ بدتمیزی بپا کیا تھا اور ہماری مخالفت چھڑ گئی تھی اس کا نتیجہ خدا تعالیٰ نے بہت ہی اچھا نکالا کہ ان ہی کے گاؤں میں ہماری جماعت قائم ہو گئی ہے اور دو تین گھر ہے احمدی ہو گئے ہیں۔از آں سوا اور بھی ترقی ہوئی ہے۔اور یہاں شہر کے لوگوں کا اور بھی ہمارے ساتھ رابطہ قائم ہو گیا ہے اور آج کل بہت ہی اچھا ماحول ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے اور حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ مخالفت کی شدت کے بعد پھر ابر باراں برسنے لگا ہے اور لوگ کھینچے چلے آرہے ہیں۔شکر الحمد للہ اس وقت اچھوت قوم کا کافی رجحان احمدیت کی طرف ہے اور ان کے لیڈر سننے میں آیا ہے کہ صلاح مشورے کر رہے ہیں کہ ہم ہندو دھرم کے گڑھے سے نکلیں اور آثار بھی ایسے نظر آرہے ہیں کہ اب ہمیں بہت ہی جلد ترقی ہو گی۔دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ میرے اچھوت بھائیوں کو اچھوت پنے کی لعنت سے جلد از جلد رہا فرمائے۔آمین۔پھولپورہ جماعت کے نمائندگان جو جلسہ پر آئے تھے وہ تو بہت ہی اچھا اثر لے کر آئے ہیں۔اور حقیقت میں ان کے یہاں آنے کے بعد ہی لوگوں کی توجہ اس طرف ہوئی ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ اب جلد ہی کچھ جماعتیں اور بھی قائم ہو جائیں گی۔جن کے لئے اور معلمین کی بھی ضرورت ہوگی جو تھوڑی بہت سندھی جانتے ہوں اور علاج معالجہ اچھا کر سکتے ہوں۔اس علاقہ کے ایک کونے سے ابتداء ہوئی ہے اور اب ہمیں جلد از جلد پورے علاقہ میں تبلیغ کا جال پھیلا دینا چاہئے۔جلد ۲۰