تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 536
تاریخ احمدیت 536 جلد ۲۰ مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر ۱۸ / جولائی ۱۹۵۹ء کو مرکز سے ممباسہ پہنچے اور ایک ماہ تک نیروبی کے مرکزی مشن میں رئیس التبلیغ صاحب کی زیر نگرانی کئی امور انجام دینے کے بعد اپنے حلقہ (سبورا) میں سرگرم عمل ہو گئے جہاں چوہدری عنایت اللہ صاحب انچارج مشنری کے فرائض انجام دے رہے تھے۔آپ نے ٹورا میں تعلیم بالغان کا انتظام کیا۔ٹیو را کی نواحی جماعتوں کے دورے کئے اور ۱۰۶۰ میل کا سفر تبلیغی اغراض کی خاطر کیا۔اخبار ایسٹ افریقن ٹائمز“ کے لئے مضامین لکھے اور مشن میں آنے والے کثیر تعداد زائرین کو معلومات بہم پہنچا ئیں۔نیز لٹریچر دیا۔و یہ مشن پچیس سال قبل ۲۷ / نومبر ۱۹۳۴ء کو معرض وجود میں آیا تھا۔اس مناسبت سے اس سال کے آخر میں جماعت احمد یہ مشرقی افریقہ کی طرف سے پر جوش سلور جوبلی منائی گئی۔اخبار ” ایسٹ افریقن ٹائمنز اور مپینزی یا منگو (MAPENZI YA MUNGU) کے دسمبر میں خصوصی نمبر شائع ہوئے جو دس دس ہزار کی تعداد میں چھپوائے گئے اور مقبول ہوئے۔اس تقریب پر قومی اور ملکی لیڈروں کے تہنیتی پیغامات موصول ہوئے۔چنانچہ وزیر اراضیات چیف عبد اللہ فید یکر آف ٹا نگانیکا نے لکھا: - ( ترجمہ ) میں جماعت احمدیہ کو اس موقعہ پر مبارک باد بھیجنے میں خوشی محسوس کرتا ہوں اور مشرقی افریقہ کے ان ممالک میں ان کے لئے اس اہم کام تبلیغ دین حق کی کامیابی کے لئے دعا کرتا ہوں۔اس جماعت نے گزشتہ ۲۵ سالوں میں قابل قدر کام کیا ہے ابتداء میں اس جماعت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔کیونکہ ایک ہی وقت میں اسے دو محاذوں پر مقابلہ کرنا پڑا۔ایک طرف تو انہیں ( دین حق ) پر اس نکتہ چینی کا جواب دینا پڑا جو دوسرے مذاہب کے لیڈر ( دین حق کے خلاف پھیلا رہے تھے۔اور اب اس بات کو دیکھ کر ہمیں خوشی ہے کہ اب ( دینِ حق ) کے دشمنوں کے منہ بند ہو گئے۔دوسری طرف مشن کو مسلمانوں کی اس غلط فہمی کو دور کرنا تھا کہ احمدیوں کے عقائد ( دین حق ) کے خلاف نہیں بلکہ ( دین حق ) کو مضبوط کرنے والے ہیں۔ان اصولوں کو پھیلا کر احمد یہ جماعت نے بہت سے مسلمانوں کو اپنے طور پر فیصلہ کرنے میں مدد کی ہے۔کسی چیز کو با قاعدگی سے ترقی کی طرف لے جانا بہت مشکل ہوتا ہے۔تا ہم اس جماعت نے ۲۵ سال کے مختصر عرصہ میں