تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 533 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 533

تاریخ احمدیت 533 جلد ۲۰ ۲۱ فروری کو بشیر احمد آرچرڈ صاحب مبلغ ٹرینیڈاڈ پانچ روزہ دورہ پر تشریف لائے اور ۲۵ فروری کو واپس ٹرینیڈاڈ تشریف لے گئے۔ان علاقوں میں یہ احساس شدت سے پایا جاتا ہے کہ مذہب ( دینِ حق ) صرف عربوں اور ہندوستانیوں کے لئے ہے۔یورپین اقوام اسے قبول نہیں کرتیں۔مسٹر بشیر آرچرڈ کے مصروف تبلیغی پروگرام سے اس غلط فہمی کا خوب ازالہ ہوا۔ملک کے چوٹی کے اخبارات مثلاً سورینام (SURINAM) اور ڈی ویسٹ (DE WEST) وغیرہ نے آپ کے مفصل انٹرویو شائع کئے۔آپ کی ملاقات سے امریکن قونصل صاحب بہت متاثر ہوئے نیز اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا مجھے احمد یہ مشن کے ذریعہ یہاں بسنے والی مختلف اقوام کے متعلق بہت عمدہ اور مفید معلومات حاصل ہوئی ہیں۔مسٹر بشیر آرچرڈ صاحب اور انچارج مشن کی عزت مآب وزیر اعظم (S۔D۔EMAMIVILS) سے بھی ملاقات ہوئی۔آرچرڈ صاحب نے وزیر اعظم صاحب کو ڈچ قرآن مجید کا تحفہ پیش کیا اور شیخ صاحب نے ایڈریس پڑھا جس میں جماعت احمدیہ کی تاریخ اور حضرت مسیح موعود کے دعوئی کی حقانیت پر روشنی ڈالی۔وزیر اعظم نے مشن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے شکرایہ ادا کیا۔اس تقریب کی خبر پریس اور ریڈیو دونوں نے دی۔مسٹر بشیر آرچرڈ کی آخری تقریر H۔N۔S کلب ہال میں ہوئی جہاں آپ نے اس درجہ جوش اور جرأت کے ساتھ مذہب ( دینِ حق ) پر تقریر فرمائی کہ ہال بار بار تالیوں سے گونج اٹھا۔مشرقی افریقہ یہ سال مشرقی افریقہ مشن کے لئے ترقی اور وسعت کا سال تھا جس کے دوران کیکو یو قبیلہ میں دین حق کا وسیع پیمانہ پر نفوذ ہوا۔احمد یہ مشن مشرقی ۵۷ افریقہ کے قیام کی سلور جوبلی منائی گئی۔۲۶،۲۵ ، ۲۷ / دسمبر ۱۹۵۹ء کو سالانہ کانفرنس شاندار روایات اور اخلاص و روحانیت کی فضا میں منعقد ہوئی۔دونئی جماعتیں قائم ہوئیں اور دورانِ سال ۲۲۶ خوش نصیب حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔اب تفصیل ملاحظہ ہو۔شیخ مبارک احمد صاحب رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ وعدن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں تحریر فرمایا کہ:- وہ قیدی جنہیں ماؤ کا ؤ تحریک میں حصہ لینے کی وجہ سے سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی گئی تھی ہمارا سواحیلی اور انگریزی لٹریچر پڑھ کر ( دین حق کی طرف متوجہ ہوئے اور بعد میں ملکی حالات جب نسبتاً بہتر ہو گئے تو ان کی سزاؤں میں تخفیف ہو گئی اور وہ اپنے نظر بندی کے کیمپوں سے مسلمان بن کر رہا ہو رہے ہیں۔اس سال اسی ترجمۃ القرآن سواحیلی اور سینکڑوں کتب و اخبارات ان لوگوں کی خواہش پر انہیں مفت بھجوائے گئے۔جنہیں وہ قید میں فارغ اوقات میں