تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 532
تاریخ احمدیت 532 جلد ۲۰ کی مجلس میں شامل ہونے کا اتفاق ہوا۔پریذیڈنٹ صاحب نے عیسائی تعلیم اور طریق عبادت تفصیل سے بیان کی۔آپ نے بعض سوالات کئے اور ساتھ ہی اسلامی عبادت سے متعارف کرایا جس سے حاضرین بہت متاثر ہوئے۔پریذیڈنٹ نے اپنی تقریر کے بعد بمشکل چار منٹ حقیقی اخوت“ کے موضوع پر بولنے کی اجازت دی آپ نے مختصر بتایا کہ حقیقی عالمگیر اخوت محض خدائے واحد کی حقیقی معرفت سے ہی قائم ہو سکتی ہے۔ابھی مقررہ وقت ختم نہیں ہوا تھا کہ پریذیڈنٹ صاحب نے گھبرا کر آپ کی تقریر بند کرادی۔تعلق 11- ان دنوں میڈرڈ بھر میں سبزی خوروں (VEGETARIAN-CENTRE) کی مجلس تھی جسے حکومت کی اجازت حاصل تھی اس لئے کہ انہوں نے مذہب کے بارے میں بے تو رہنے کا تحریری وعدہ کیا ہوا تھا۔مولوی کرم الہی صاحب ظفر اس کے اجلاس میں بھی شامل ہوئے اور بتایا کہ گوشت ہرگز انسان کو گنہگار نہیں بناتا۔( دین حق ) سؤر اور مردہ گوشت کھانے سے منع کرتا ہے کیونکہ اس کا روحانیت پر واقعی نا گوار اثر پڑتا ہے۔۱۲۔ہندوستانی سفارتخانہ کے ایک معزز ہندو دوست اتم صاحب نے دعوتِ چائے پر مدعو کیا۔آپ نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام حق پہنچایا اور کتاب پیغام صلح ( MESSAGE OF PEACE) تحفہ دی۔مسئلہ تناسخ پر بھی آپ نے تفصیلی روشنی ڈالی۔ڈچ گی آنا شیخ رشید احمد صاحب اسحاق انچارج مشن کی مطبوعہ رپورٹ (جنوری تا اپریل ۱۹۵۹ء) کے مطابق ریڈیو سے ان کی نو تقاریر نشر کی گئیں۔ڈاکٹر SPACHMAN نے ایچ این ایس (H۔N۔S) کلب ہال میں ”ہندو مذہب کے زیر عنوان لیکچر دیا۔اس موقع پر انہوں نے صدر جلسہ کی اجازت سے بتایا کہ ذات پات کی تمیز کے متعلق صرف قرآن مجید جواب دے سکتا ہے جو لفظی اور معنوی اعتبار سے عدیم المثال ہے اور اس میں رنگ ونسل نہیں فقط تقویٰ معیار فوقیت ہے۔انہی ایام میں جنوبی افریقہ کے بہائی مشنوں کی انچارج مسز وار لی MRS۔WORLY کے پبلک لیکچر میں آپ نے مسکت سوالات کئے آپ نے یہ بھی پوچھا کہ کیا آپ کی مذہبی کتاب اقدس“ آپ کے پاس موجود ہے؟ جس کا جواب مسز وارلی کو نفی میں دینا پڑا۔شیخ رشید صاحب نے امریکہ کے نئے قونصل برائے ڈچ گی آنا (MR۔R۔MILLONS) کو پیغام احمدیت پہنچایا اور سلسلہ کا لٹریچر پیش کیا۔چند روز بعد قونصل سے دوبارہ ملاقات ہوئی جس میں کمیونزم موضوع گفتگو تھا۔