تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 38 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 38

تاریخ احمدیت 38 38 ریگستانی علاقہ میں نہایت ہی مشکل اور نامساعد حالات میں کئی سال تک آنریری طور پر فریضہ تبلیغ ادا کیا۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ان کی اس قربانی کو مثمر ثمرات حسنہ فرمایا اور ۱۹۶۱ء میں پہلی مرتبہ اس علاقہ کی اچھوت اقوام میں چار دوستوں کو قبول ( دینِ حق ) کی سعادت نصیب ہوئی۔اس کامیابی کے نتیجہ میں وقف جدید کو وہاں ایک مرکزی بستی میں باقاعدہ مرکز کھولنے کی توفیق ملی۔جہاں ایک نومسلم ہومیو ڈاکٹر نثار احمد راٹھور کو بطور معلم مقرر کیا گیا۔اگر چہ اس مشن کے قیام کے بعد چند سال تک تو نہایت مایوس کن حالات کا سامنا کرنا پڑا اور مذکورہ نومسلمین کے ساتھ ان کے اعزا دا قارب کے انتہائی سخت اور نفرت آمیز سلوک سے ڈر کر مزید بیعتیں ہونا بند ہوگئیں تاہم وقف جدید نے نصرت الہی پر بھروسہ کرتے ہوئے وہاں کام بند کرنے کی بجائے اسے مزید تقویت دینی شروع کر دی اور مکرم مولوی محمد شریف صاحب معلم حلقہ نوکوٹ کو بھی وہاں نثار احمد صاحب کے ساتھ تمام علاقے کے دورے پر بھجوایا گیا۔اس دورے کی رپورٹ نہایت امید افزا تھی۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق حالات کا بذات خود جائزہ لینے کے لئے اس عاجز نے بھی اس علاقہ کا دورہ کیا اور شدت سے محسوس کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض اچھوت اقوام ( دینِ حق ) کے بہت قریب آچکی ہیں۔اور بعید نہیں کہ ہم جلد اس علاقہ میں یدخلون فی دین الله افواجا کا نظارہ بچشم خود دیکھ لیں۔چنانچہ اس دورہ کے بعد اس مشن کو اور آگے بڑھا کر دیہاتی علاقوں میں منتقل کر دیا گیا۔اور معلمین کی تعداد بھی مستقل طور پر ایک کی بجائے تین کر دی گئی۔الحمد للہ کہ اس کے بہت ہی خوش کن نتائج پیدا ہوئے اور آج تک وہاں تین مختلف دیہات میں ۱۹۱ ہندو ( دینِ حق ) قبول کر چکے ہیں۔اور دن بدن ( دین حق کی طرف ان کا رجحان بڑھ رہا ہے۔دن بدن تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے تبلیغی اور تربیتی کام کے پیش نظر عنقریب اس مشن کو اور تقویت ینی پڑے گی اور مزید مراکز کھولنے پڑیں گے۔اس وقت ہمارے سامنے فوری مسئلہ نومسلمین کی ٹھوس تربیت کا مسئلہ ہے۔جس کے لئے معلمین کو بہت جلد ۲۰