تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 529
تاریخ احمدیت 529 جلد ۲۰ تشریف لائے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب پاکستانی قونسلر جمہور یہ متحدہ عرب اور انڈونیشین سفارتخانہ کے سیکرٹری صاحبان اور بعض احمدی احباب نے استقبال کیا۔حافظ قدرت اللہ صاحب نے ان کی خدمت میں ایک مختصر سا ایڈریس پیش کیا۔جس کے بعد ہالینڈ سے شائع شدہ انگریزی ترجمہ قرآن مجید اور لائف آف محمد کی ایک ایک جلد بطور ہدیہ نذر کی جسے آپ نے قدر و محبت سے سرشار جذبات کے ساتھ قبول کیا اور ایڈریس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا :- (ترجمہ) '' آج جماعت احمد یہ جس رنگ میں تبلیغ دین کا فریضہ ادا کر رہی ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے۔میں نے افریقہ میں ان کا کام دیکھا ہے اور آج یورپ میں بھی دیکھ رہا ہوں اور اس سے بہت متاثر ہوں۔جس رنگ میں قرآن کریم کی اشاعت اور اس کی تعلیم پھیلانے میں آپ کی جماعت کوشاں ہے اور جس طرح نو جوانوں کو دین حق کی تعلیم سے آشنا کیا جارہا ہے یہ صرف جماعت احمدیہ کا ہی حصہ ہے اور وہ اس ضمن میں منفرد ہے۔دراصل یہی اسلامی تعلیم ہی ہے جس سے دنیا میں صحیح معنوں میں امن قائم کیا جاسکتا ہے اور یہی ایک گر ہے جس کے ذریعہ ترقی ہوگی نائیجیریا میں آپ نے جس رنگ میں دین حق کی عظیم الشان عمارت کی بنیادوں کو پھر سے کھڑا کیا ہے اور سکول اور کالج کھول کر اور بیوت الذکر تعمیر کر کے جس طرح اسلامی تعلیم کو رواج دیا ہے آنے والی عمارت میں اسے ستونوں کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔“ ۱۹۵۹ء میں خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ریڈیو، خبر رساں ایجنسیوں اور پریس نے جماعت احمدیہ کی دینی مساعی میں غیر معمولی دلچسپی لی۔ہالینڈ کے روزنامہ WIEUWE HRUG SHE COURANT نے اپنی ۲۱ فروری ۱۹۵۹ء کی اشاعت میں ایک مفصل مضمون ” مشرقی مذاہب کا احیاء کے زیر عنوان شائع کیا ہے جس کے آخر میں مضمون نگار نے بیت الذکر ہیگ کے افتتاح کا فوٹو دیتے ہوئے مندرجہ ذیل تشریحی نوٹ لکھا : - ( ترجمہ ) یہ فوٹو نماز باجماعت کی کراچی ، قاہرہ یا بغداد میں کسی نماز کی تقریب کا نہیں بلکہ ہمارے ملک میں ہیگ کی بیت الذکر کا ہے۔یورپ میں مسلمان دو دفعہ آئے۔ایک دفعہ ۷۳۸ء میں جبکہ کارل مارٹل نے ان کا مقابلہ کیا پھر دوسری دفعہ ۱۵۲۷ء میں جبکہ وہ وی آنا کے دروازہ تک پہنچ گئے۔اس وقت بھی انہیں طاقت کے ساتھ پیچھے دھکیل دیا گیا۔لیکن اس زمانہ میں وہ دوسرے دروازے سے داخل ہوئے ہیں اور انہیں کسی لشکر اور فوج سے مقابلہ نہیں کرنا پڑا ہاں ان کا مقابلہ اس دفعہ اہل یورپ کے قلوب سے