تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 527
تاریخ احمدیت 527 جلد ۲۰ چند ہفتوں میں یہ کتاب مرتب کرلی اور اس سال کے آخر میں طباعت کے لئے پریس کو دے دی گئی۔۱۳/ نومبر ۱۹۵۹ء کو پرنس یحیی بن الحسین (شاہ یمن کے بھتیجے ) اور السید عبداللہ بن علی شرقی رکن وزارت الخارجیہ یمن تشریف لائے ان کے ہمراہ ہمبرگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر راجنس (RATJENS) بھی تھے۔ان سے چوہدری عبداللطیف صاحب نے احمدیت کے بارہ میں تفصیلی گفتگو کی اور سکنڈے نیویا عربی لٹریچر بھی پیش کیا۔ماه فروری ۱۹۵۹ء میں سید کمال یوسف صاحب انچارج مشن نے ”ایکٹو اسلام کے نام سے سویڈیش ، نارویجن اور ڈینش زبانوں میں ایک ماہوار رسالہ جاری کیا۔چوہدری عبداللطیف صاحب انچارج جرمنی مشن کے متعدد انٹرویو مختلف اخبارات میں شائع ہوئے۔سیف الاسلام محمود ( گونر آرگن) کا ٹیلی ویژن انٹرویو ہوا جو مشن کی شہرت کا موجب بنا۔سال کے وسط میں سات بیعتیں ہوئیں۔( دین حق ) اور عیسائیت کے موضوع پر ایک پمفلٹ شائع کیا گیا۔نیز سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کے لیکچر میں ( دین حق ) کو کیوں مانتا ہوں ؟“ کا ڈینش ترجمہ اشاعت پذیر ہوا۔شیخ ناص ناصر احمد صاحب بی اے انچارج مشن نے ۲۰/جنوری ۱۹۵۹ء کو BIRMENSDARY میں اور ۳ رفروری کو GOSSAU میں عالم اسلامی اور سوئٹزرلینڈ ( دین حق ) کے موضوعات پر تقاریر کیں۔دونوں جگہ حاضرین کثیر تعداد میں موجود تھے۔آپ تحریر فرماتے ہیں ”جون ۱۹۵۹ء کے شروع میں خاکسار آسٹریا کے تبلیغی دورہ پر گیا۔9 جون کو خاکسار نے وی آنا میں ( دینِ حق ) پر ایک مفصل تقریر کی۔یہ تقریر شہر کے ایک مشہور ہال میں ہوئی۔اسی شام وی آنا ریڈیو نے خاکسار کے ساتھ ایک انٹرویو نشر کیا۔اگلے روز ایک اور جگہ ( یو نیورسٹی کی اور نینٹل انسٹی ٹیوٹ ) میں خاکسار کی تقریر ہوئی۔وی آنا میں خاکسار نے مختلف مواقع پر نئے احمدی احباب سے انفرادی ملاقاتیں کیں اور انہیں تنظیم اور چندوں وغیرہ کی طرف توجہ دلائی۔پہلی تقریر کے بعد ایک اور نوجوان نے بیعت بھی کی۔“ اس سال کا یادگار واقعہ جرمن ترجمہ قرآن کے دوسرے شاندار ایڈیشن کی اشاعت ہے جو شیخ صاحب کی انداز اتین سال کی محنت شاقہ کا ثمر تھا۔آپ نے اس ایڈیشن کی تیاری میں