تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 515
تاریخ احمدیت 515 جلد ۲۰ تقریب میں دوسرے مہمانوں کے علاوہ ملایا کے ہائی کمشنر، پاکستان ہائی کمیشن کے بعض اعلیٰ افسران اور عالمی سائنسندان پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام صاحب اور قریباً ہمیں دیگر اہم شخصیات بھی شامل تھیں۔۴۷ جناب بشیر احمد خان صاحب رفیق تحریر فرماتے ہیں :- ۱۸ / فروری ۱۹۵۹ء کو خاکسار اہلیہ اور ایک بیٹے کے ساتھ انگلستان کے ساحل سمندر پر واقع شہر لیور پول پہنچا۔ہمارا یہ سفر بحری جہاز کے ذریعہ ۱۸ دن میں طے ہوا تھا۔لیور پول سے ہم ریل گاڑی میں سوار ہوئے۔یہ ان ی انگلستان کی سرزمین پر خاکسار کا پہلا سفر تھا۔یہ ٹرین بوٹ ٹرین کہلاتی تھی۔جو جہاز کے مسافروں کو پانچ گھنٹوں میں نان سٹاپ لندن پہنچا دیتی تھی۔گاڑی لندن کے یوسٹن اسٹیشن پر ٹھہری۔شام ہو چکی تھی۔لیکن اسٹیشن بقعہ نور بنا ہوا تھا۔اور رات میں دن کا سماں تھا۔ہمارے استقبال کے لئے امام بیت الفضل مولود احمد خان صاحب تشریف لائے ہوئے تھے۔ان کے ساتھ لندن کے چند اور دوست یعنی مکرم عبدالعزیز دین صاحب، پروفیسر ڈاکٹر سلطان محمود شاہد صاحب، چوہدری محمد اشرف صاحب اور مولوی عبد الرحمن صاحب بھی آئے ہوئے تھے۔ہم مولوی عبد الرحمن صاحب کی موٹر میں سوار ہوئے۔سردی شدید تھی۔کار لندن کے احمد یہ مشن ہاؤس کی طرف روانہ ہوئی۔میں نے زندگی میں اتنا بڑا شہر کبھی نہیں دیکھا۔سارا شہر روشنیوں کا شہر لگتا تھا۔کرسمس کی روشنیاں ابھی تک دکانوں اور سڑکوں پر جگمگ کر رہی تھیں۔مولوی عبدالرحمن صاحب ساتھ ساتھ قابل دید مقامات ہمیں دکھا رہے تھے۔ایک گھنٹہ کے بعد بالآخر ہماری گاڑی احمد یہ مشن ہاؤس یعنی ۶۳ میلروز روڈ کے سامنے رکی۔ہم نے کار سے اتر کر مشن ہاؤس میں قدم رکھتے ہی خدا کا شکر ادا کیا۔کہ جس بیت الفضل اور مشن ہاؤس کا تذکرہ ہم ایک زمانہ سے سنتے چلے آئے تھے وہ آج ہماری آنکھوں کے سامنے تھا۔مکرم امام صاحب کا قیام مشن کی پہلی منزل پر تھا۔انہوں نے پر تکلف کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔تین ہفتوں کے بحری سفر کے بعد پہلی مرتبہ