تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 498
تاریخ احمدیت 498 جلد ۲۰ میں ہم نے کبھی ان کی زبان سے شکوہ کا حرف نہ سنا۔محترم رحمانی صاحب کے اخلاق میں مہمان نوازی بھی ایک نمایاں خلق تھا باوجود آپ کی مالی حالت کے کمزور ہونے کے ضیافت اور مہمان نوازی میں آپ خاص فرحت محسوس کرتے تھے۔اور حتی الوسع مہمانوں کی خواہش کو پورا کرتے اور ان کی دلجوئی کا خاص خیال رکھتے تھے۔تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ماسٹر جناب سمیع اللہ صاحب کی چشم دید شہادت ہے کہ : - محترم رحمانی صاحب مرنجاں مرنج بزرگ تھے۔تقویٰ اور طہارت کا ایک چلتا پھرتا نمونہ تھے۔روحانیت میں سچ سچ انہیں بہت اونچا مقام حاصل تھا۔وہ جہاں بھی رہے انہوں نے وہیں اپنی شرافت، بزرگی اور خلوص کے نشان چھوڑے۔مجھ سے ان کے تعلقات میرے زمانہ طالب علمی ہی کے تھے۔میں خود ہی ان کا شاگرد نہیں ہوں میرے والد صاحب بھی ان کے شاگرد ہیں اور میں نے ہمیشہ اس پر بڑا فخر محسوس کیا ہے۔جن دنوں وہ ہمیں پڑھایا کرتے تھے یہ امر واقع ہے کہ لڑکے ان سے بہت انس رکھتے تھے۔اس کی وجہ غالباً یہی تھی کہ سکول کی کتابوں کے علاوہ ہم نے ان سے شرافت اور دوسروں کے لئے بے پایاں ہمدردی کے اصول بھی سیکھے۔اور پھر سکول ہی میں مجھے ان کے شریک کار بننے کا شرف بھی حاصل ہوا۔اگر چہ یہ بہت ہی تھوڑا عرصہ تھا۔۱۹۶۵ء میں وہ تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ میں اپنی طویل علالت کے بعد ریٹائر ہو گئے تھے۔تاہم میں نے ہی نہیں باقی اساتذہ نے بھی ان سے بہت کچھ سیکھا۔سارا دن پڑھانے کے بعد چھٹی کے وقت تھک کر جب سب لوگ سٹاف روم میں جمع ہوتے تو محترم رحمانی صاحب اشعار سنا کر ہماری تھکن کو دور کرتے۔میں نے ہمیشہ ان کے حافظے پر رشک کیا۔شعور ادب کا ایک نہایت ستھرا مذاق رکھتے تھے۔جن لوگوں نے ان کے اس مذاق سے فائدہ اٹھایا ہے وہ انہیں کبھی نہیں بھول سکتے۔اردو اور فارسی کے سینکڑوں ہی اشعار انہیں یاد تھے اور میں نے خود دیکھا ہے کہ مختلف تقاریر اور مقابلوں کے لئے بچوں کو انہوں نے اپنے ہاتھ سے نقار بر لکھ کر دیں اور پہروں ان کی نوک پلک سنوارنے میں اپنا وقت صرف کیا۔۸۲