تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 491
تاریخ احمدیت 491 یو نیورسٹی سے مولوی فاضل کی ڈگری حاصل کی اور پھر خدمت دین کے لئے اپنی زندگی وقف کردی۔۔اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ان کو نہایت ہی کامیاب مبلغ بنایا اور۔احمد بیت کی تاریخ میں آپ نے قربانیوں کے ایسے شاندار نقوش چھوڑے کہ ایاز مرحوم کا نحیف و نا تواں جسم گو آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے مگر ان کی قربانیوں اور تبلیغی کارناموں کی یاد ہمیشہ دلوں کو گرماتی رہے گی۔“ جنگ عظیم دوئم میں جب ملایا اور سنگا پور پر جاپانیوں نے قبضہ کرلیا تو انگریز فوجوں کو جن میں کثرت سے ہندوستانی تھے قید کر دیا گیا۔ان میں سکھ ، ہندو، عیسائی، احمدی اور غیر احمدی سبھی تھے۔اس زمانہ میں آپ۔نے ہمدردی جانفشانی ، حسنِ سلوک اور خدمت خلق کا نہایت ہی اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔آپ اپنے آپ کو خطرہ میں ڈال کر ان مصیبت زدہ قیدیوں کو خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کیمپوں میں پہنچاتے تھے۔مجھے متعدد غیر از جماعت دوست ملے ہیں۔جن پر آپ کے اس حسنِ سلوک کا نہایت گہرا اثر تھا۔آپ ان مشکلات اور مخالفتوں کے ایام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کرتے تھے کہ :- اس زمانہ میں بڑی رقت اور گداز سے دعائیں کرتا تھا۔اور اللہ تعالیٰ کا مجھ سے یہ سلوک تھا کہ اکثر دفعہ بذریعہ کشف اور الہام دعا کی قبولیت اور آئندہ کامیابی کے متعلق مجھے بشارات مل جاتی تھیں اور یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی توجہ کی برکت تھی۔“ مہمان نوازی کا وصف بھی آپ کی طبیعت میں نمایاں حیثیت میں پایا جاتا تھا۔مہمان کے آنے پر آپ کا دل انبساط اور بشاشت سے بھر جاتا تھا اور مقدور بھر اس کو خوش رکھتے اور اس کے جذبات کا خیال رکھتے تھے۔اسی وجہ سے آپ کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا اور سادگی کے ساتھ دلی خلوص کے امتزاج سے مہمان نوازی کی شان دوبالا ہو جاتی تھی۔رشتہ داروں اور عزیزوں کے ساتھ صلہ رحمی کا آپ میں خاص جذبہ تھا۔ان کی خدمت کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتے تھے۔اگر رشتہ دار ناراض بھی جلد ۲۰