تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 490
تاریخ احمدیت 490 مولانا غلام حسین صاحب کو میں ان کے زمانہ طالب علمی سے اچھی طرح جانتا ہوں۔بہت بے نفس اور متواضع عالم تھے۔انہیں بڑی تڑپ تھی کہ مجھے زیادہ سے زیادہ خدمت دین کا موقعہ ملے۔آخری مرتبہ دینی سفر پر جانے سے پہلے اپنی بڑی بچی کا رخصتانہ کر گئے تھے جن کا نکاح مکرم عبد اللطیف صاحب ستکو ہی لاہور سے ہوا تھا۔ان کی اہلیہ محترمہ اور دو بچے اس سفر میں ان کے ہمراہ تھے۔یقیناً ان کی دور دراز علاقہ میں اس طرح وفات سخت صدمہ کا موجب ہے اور ایسے جاں نثار مجاہد کا اس طرح داغ مفارقت دے جانا بہت ہی رنجیدہ حادثہ مگر جہاں تک حضرت مولوی غلام حسین صاحب ایاز کی ذات کا سوال ہے وہ یقیناً اپنے مقصد کو پا گئے اور نہایت کامیابی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے ہیں۔غریب الوطنی کی موت جو محض خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کے لئے تھی حدیث نبوی کے مطابق قطعی طور پر شہیدوں کی موت ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے مرحوم مجاہد بھائی کے جنت الفردوس میں درجات بلند فرمائے اور اس کے جملہ متعلقین بالخصوص ان کے بوڑھے والد بزرگوار جناب ملک غلام قادر صاحب اور مجاہد بھائی مولوی غلام احمد صاحب فرخ ، ان کے صدمہ رسیدہ بچوں اور ان کی دردمند اہلیہ محترمہ کو اللہ تعالیٰ صبر جمیل کی توفیق بخشے اور جماعت میں ایسے مجاہدین کے نقش قدم پر چلنے والے نو جوانوں کی فراوانی فرمائے۔آمین ثم آمین۔LA مولانا غلام احمد صاحب فرخ مربی سلسلہ احمدیہ نے تحریر فرمایا: - د محترم اخویم غلام حسین صاحب ایاز ہم پانچ بہن بھائیوں اور تین بہنوں میں بڑے تھے۔آپ کی ولادت ۱۹۰۲ء میں ہوئی۔ہمارے والد صاحب بزرگوار کو ۱۸۹۱ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔اس طرح ایاز صاحب مرحوم کی ولادت احمدیت میں اور حضرت مسیح موعود کی زندگی میں ہوئی۔آپ نے ابتدائی تعلیم موضع فیض اللہ چک میں حاصل کی جو ہمارے گاؤں سکنہ تھہ غلام نبی سے دومیل کے فاصلہ پر واقع ہے۔پرائمری کی تعلیم کے بعد آپ مدرسہ احمد یہ قادیان میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخل ہوئے اور پنجاب جلد ۲۰