تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 482
تاریخ احمدیت 482 جلد ۲۰ بنصره العزيز ( اللهم متعنا بطول حياته برحمتك كى ذاتِ اقدس کے ساتھ اسے والہانہ عشق تھا۔مجھے حقیر و ناچیز پر خطا و عصیان کے ساتھ بھی اسے گہری محبت تھی۔فجزاه الله احسن الجزاء وجعل الجنة العليا مثواه برحمته وهو ارحم الراحمين عبداللہ خان عاجز انسان تھا۔اللہ تعالیٰ کے عفو اور غفران اور اس کی رحمت کا محتاج۔اس کے تمام دکھ اور درد رب العالمین کے حضور اس کی کمزوریوں اور خطاؤں کا کفارہ ہوں۔اور وہ اپنے مولیٰ اور رب سے وافر رحمت کا سلوک دیکھے۔آمین یا ارحم الراحمین۔میں نے اس کا پیارا چہرہ آخری بار ۱۵ / فروری کی سہ پہر کو کراچی کے مطار پر دیکھا۔جب میں نے اسے لاہور کے سفر پر رخصت کیا۔جب اس نے اس سفر کا ارادہ کیا تو مجھ سے کہا میں چلتا پھرتا تو نظر آتا ہوں لیکن میں اپنے اندر کوئی طاقت محسوس نہیں کرتا۔چونکہ مجبوری ہے اس لئے آمادہ ہو گیا ہوں۔لاہور پہنچنے کے بعد اسی رات اس کے سینے میں شدید درد اور ساتھ تپ شروع ہو گیا۔چند دن کے بعد اس حالت میں کچھ افاقہ تو ہوا لیکن دراصل پھر طبیعت سنبھلی نہیں۔کمزوری بڑھتی گئی اور دبے ہوئے عوارض ظاہر ہونا شروع ہو گئے۔آخر این جانِ عاریت که بحافظ سپرد دوست روزے رخش بینم و تسلیم دے کنم کا عہد از لی وفا کیا۔ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت لا انتہاء اور لطف بے پایاں پر تکیہ کرتے ہوئے دست بدعا ہیں کہ عبداللہ خان درگاہِ الہ العالمین سے یہ خطاب سنے۔يا ايتها النفس المطمئنة ارجعى الى ربك راضية مرضية فادخلى في عبادي وادخلي جنتي میرا جسم دور تھا لیکن میری روح اس عرصے میں عبداللہ خان کے گرد بے قرار اور رب العلمین کے حضور اس کی صحت اور تندرستی کے لئے زاری میں تھی۔میں جانتا ہوں کہ عبداللہ خان کی آنکھیں اپنے محبوب بھائی کے دیکھنے کو ترستی ہوں گی۔لیکن میری مجبوری اور میرے دل اور میری روح کی کیفیت ضرور اس پر آشکار ہوگی۔عبداللہ خان اپنے رب کے بلاوے پر لبیک اللھم لبیک کہتا ہوا اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا۔العين تدمع والقلب يحزن ولكن لا نقول الا ما يرضي ربنا وانا بفراقك يا عبدالله لمحزونون۔