تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 471 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 471

تاریخ احمدیت 471 کا تھا۔آپ کا دروازہ ہر ایک شخص کے لئے کھلا ہوتا۔جو بھی آتا وہاں فیض پا کر لوٹتا۔آپ نے کبھی کسی کو انکار نہیں کیا۔معمولی سے معمولی انسان کے ساتھ بھی آپ پیار اور شفقت سے پیش آتے اور اس کی کسی ضرورت کے وقت مدد کرنے سے گریز نہ کرتے۔- ہر ضرورت مند کی امداد آپ کا معمول تھا۔سفارش اور مدد کرنے سے آپ نے کبھی پہلوتہی نہیں کی۔اور ہر ایک کی جائز امداد کی۔اس قسم کے واقعات ہر روز ہوتے تھے۔اگر ان کو جمع کیا جائے تو ایک ضخیم مجموعہ بن جائے۔آپ یہ سب کچھ رضائے الہی کی خاطر کرتے تھے۔آپ نے کبھی کسی سائل کو مایوس نہیں لوٹایا۔جو کچھ پاس ہوتا دے دیتے۔اگر کسی وقت کچھ نہ ہوتا تو کسی دوست سے امداد کرا دیتے تھے۔مکرم ملک جلال الدین صاحب جو آج کل بدین میں ہیں چوہدری صاحب کی وفات کے چند سال بعد اپنے علاقے کے مختار کار سے ملاقات کرنے گئے۔اس نے برسبیل تذکرہ محترم چوہدری عبداللہ خان صاحب کے بارے میں پوچھا کہ ان کا کیا حال ہے۔جب ملک صاحب نے بتایا کہ وہ تو وفات پاچکے ہیں اس پر اس مختار کار نے زار و قطار رونا شروع کر دیا۔کچھ دیر کے بعد بتایا کہ مجھ پر ایسا وقت آیا کہ میں دو تین روز سے مع اہل وعیال فاقہ سے تھا۔کسی نے مجھے بتایا کہ میں چوہدری صاحب محترم کے پاس چلا جاؤں۔وہ میری مدد کریں گے۔میں آپ کے پاس پہنچا اور اپنی ضرورت کا ذکر کیا۔اور آپ کے کہنے پر ملازمت کے لئے درخواست تحریر کر کے دی۔جو آپ نے اپنے دفتر میں کسی کو دے دی اور میرے تقرر کرنے کی ہدایت کی لیکن مجھ پر یہ اثر ہوا کہ دیگر دفاتر کی طرح یہاں بھی سردمہری سے کام لیا گیا ہے۔آپ نے یہ بات بھانپ لی۔پیچھے آپ کا کوٹ لٹک رہا تھا اس میں سے پچاس روپے نکال کر دیئے اور فرمایا ابھی گزارہ کریں۔کل آجائیں۔اس زمانہ میں یہ ایک کثیر رقم تھی۔دوسرے روز میری تقرری ہوگئی اور اب میں ترقی کرتے کرتے مختار کار بن چکا ہوں۔آپ کی وفات کا سن کر اس احسان کی وجہ سے میں یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکا۔“ جلد ۲۰