تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 422
تاریخ احمدیت 422 جلد ۲۰ علی الخصوص سید نا حضرت خلیفہ اسی ثانی اصلح موعود سے والہانہ محبت تھی۔آپ کو خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے قربت کا یہ خاص شرف بھی حاصل تھا کہ آپ کی اہلیہ محترمہ نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے بڑے پوتے صاحبزادہ مرزا نصیر احمد صاحب مرحوم ابن سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی اصلح الموعود کو ( جو الہام تری نسلاً بعيدا کے اولین مصداق تھے ) دودھ پلایا تھا۔آپ کو قادیان میں رہنے اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پر معارف مجالس میں شریک ہونے کا موقع میسر آیا تھا اور آپ بہت سے نشانات کے عینی شاہد تھے۔اور بہت پر درد و پراثر لہجے میں روایات سنایا کرتے تھے۔مجلس انصاراللہ کے سالانہ اجتماعات کے مواقع پر ذکر حبیب علیہ السلام کے زیر عنوان آپ نے ایمان افروز تقاریر فرمائیں۔مولوی روشن دین صاحب واقف زندگی سابق مبلغ مسقط کی عینی شہادت ہے کہ :- دو تقسیم پنجاب کے بعد میرا عارضی قیام خانقاہ ڈوگراں ضلع شیخو پورہ میں ہوا تھا۔قبل ازیں شیخ صاحب بمع اہل وعیال یہاں رہائش اختیار کر چکے تھے۔نمازیں انہی کی بیٹھک میں عام طور پر ہوا کرتی تھیں اور حضرت شیخ صاحب ہی امام ہوا کرتے تھے۔نمازیں پوری پابندی سے ہوتیں۔میں حضرت شیخ صاحب کو نماز پڑھنے کے وقت بالکل اس حالت میں پاتا کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ کر ان سے باتیں کر رہے ہیں۔قرآن کریم کی تلاوت ہمیشہ باقاعدگی سے کیا کرتے۔باوجود بڑھاپے کے قرآن پاک کو ازبر کرنے کا شوق ابھی تک جاری تھا۔اپنے بچوں کی تربیت کا از حد خیال رکھتے جس کا ذکر کئی دفعہ مجھ سے کرتے۔تبلیغ کا از حد شوق تھا۔غالبًا ۱۹۴۸ء کا واقعہ ہے میں لاہور سے خانقاہ ڈوگراں قیام کے لئے آیا ہوا تھا۔اس کے بعد مجھے مسقط آنا تھا۔ان دنوں لوگ سکول کے احاطہ میں ریڈیو سے خبریں سننے کے لئے اکٹھے ہوا کرتے تھے۔چنانچہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا ایک مضمون قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم کے متعلق اخبار الفضل میں شائع ہوا۔اس مضمون کو پڑھ کر حضرت شیخ صاحب مجھے فرمانے لگے مولوی صاحب آج رات سکول کے احاطہ میں لوگوں کو یہ مضمون سنانا چاہئے۔میں نے کہا بالکل ٹھیک ہے۔میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گا۔چنانچہ ہم دونوں موقعہ پر