تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 27
تاریخ احمدیت 27 جلد ۲۰ توجہ پیدا ہو رہی ہے۔چنانچہ ایک سکول کے مدرس نے لکھا ہے کہ میں اپنے آپ کو وقف کرنے کے لئے تیار ہوں۔میں نے اسے لکھا ہے کہ تم کام شروع کر دو ہم وہیں تمہیں اپنا معلم مقرر کر دیں گے۔غرض یہ تحریک خدا تعالیٰ کے فضل سے ترقی کر رہی ہے۔دوست اس کے لئے دعائیں کرتے رہیں اور ایک دوسرے کو تحریک بھی کرتے رہیں قرآن کریم نے مومن کا یہی کام بتایا ہے کہ وہ نیکیوں میں آگے بڑھتا ہے اور جب کوئی پیچھے رہ جائے تو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ شامل کر لیتا ہے پھر اور آگے بڑھتا ہے اور جو پیچھے رہ جائے۔اسے پھر اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس طرح وہ قدم بقدم آگے بڑھتا چلا جاتا ہے اور ساتھ ہی اپنے پیچھے رہ جانے والے بھائیوں کا بھی خیال رکھتا ہے۔اور ان کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کرتا ہے۔یہاں تک کہ دنیا میں نیکی ہی نیکی قائم ہو جاتی ہے۔یہی فاستبقوا الخیرات کے معنے ہیں پس اگر ڈیڑھ ہزار سینٹر قائم ہو جائے تو ہمارے ملک کا کوئی گوشہ اصلاح وارشاد کے دائرہ سے باہر نہیں رہ سکتا۔ویسٹ پاکستان کا رقبہ تین لاکھ مربع میل سے زائد ہے۔اور ایسٹ پاکستان کا ۵۴ ہزار مربع میل ہے۔ہماری سکیم ایسی ہے۔جس کے ماتحت چار چار پانچ پانچ مربع میل میں ایک ایک سنٹر قائم ہو جاتا ہے پھر اور ترقی ہو تو دو د و مربع میل پر بھی ایک ایک سنٹر مقرر کیا جا سکتا ہے بلکہ اور ترقی ہو تو ایک ایک میل کے حلقہ میں بھی سنٹر قائم ہو سکتا ہے اور ایک ایک میل میں ہم سنٹر مقرر کر دیں تو پھر ہمارے ملک میں کوئی جگہ ایسی باقی نہیں رہتی جہاں خدا اور رسول کی باتیں نہ ہوتی ہوں۔جہاں قرآن کی تعلیم نہ دی جاتی ہو اور جہاں ( دین حق ) کا پیغام نہ پہنچایا جاتا ہو۔۲۷ حضرت مصلح موعود کے ارشاد مبارک ہندوستان میں وقف جدید انجمن احمدیہ کا قیام کے مطابق یکم مارچ ۱۹۵۸ء کو ہندوستان میں بھی وقف جدید کا قیام عمل میں آیا۔ممبران حسب ذیل تھے :- ا صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ( انچارج وقف جدید ) ۲-مولوی برکات احمد صاحب