تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 26 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 26

تاریخ احمدیت 26 نتائج تو اگلے جلسہ کے بعد انشاء اللہ نکلنے شروع ہوں گے۔لیکن اس کے خوش کن آثار ابھی سے ظاہر ہونے شروع ہو گئے ہیں۔جیسے کہتے ہیں۔ہو نہار بروا کے چکنے چکنے پات خدا تعالیٰ کے فضل سے اس تحریک کے آثار بتا رہے ہیں کہ اس کا مستقبل بہت شاندار ہوگا۔اس وقت یہ تحریک ایک بچہ کی صورت میں ہے۔اور بچہ کے پیدا ہوتے ہی اس کے دانت نہیں دیکھے جاتے نہ اس کی داڑھی دیکھی جاتی ہے۔دو تین سال میں اس کے دانت نکلتے ہیں۔پھر وہ چلنا پھرنا سیکھتا ہے اور کہیں اٹھارہ بیس سال کے بعد اس کی داڑھی نکلتی ہے۔اگر پہلے دن ہی اس کی داڑھی تلاش کی جائے تو یہ بیوقوفی ہوگی۔اسی طرح وقف جدید کے نتائج اور اس کی خوبیوں کا ابھی سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔اس وقت تک جو کیفیت ہے اس کے لحاظ سے واقفین زیادہ ہیں اور چندہ کم ہے۔جب میں چلا ہوں تو وقف جدید میں ۷۰ ہزار سالانہ کے وعدے آئے تھے۔لیکن واقفین ۳۴۵ تھے۔اگر پچاس روپیہ ماہوار بھی ایک شخص کو دیئے جائیں۔اور پھر دورہ کرنے والوں کے اخراجات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔اور اوسط خرچ ستر روپے ماہوار سمجھا جائے تو ۳۴۵ واقفین کے لئے ۳۵ ہزار روپیہ ماہوار یا تین لاکھ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہوگی۔اور اتنا روپیہ ہمارے پاس نہیں بلکہ ہماری اصل سکیم تو یہ ہے کہ کم سے کم ڈیڑھ ہزار سینٹر سارے ملک میں قائم کر دیئے جائیں۔اگر ایک ہزار سینٹر بھی کھولے جائیں۔اور ستر روپیہ ماہوار ایک شخص کے خرچ کا اندازہ رکھا جائے تو ستر ہزار روپیہ ماہوار یا ساڑھے آٹھ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ ہوگا۔بظاہر یہ رقم بہت بڑی نظر آتی ہے۔لیکن ہمیں خدا تعالیٰ نے کبھی مایوس نہیں کیا۔اس لئے ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ روپیہ ہمارے لئے مہیا فرما دے گا۔بلکہ ہمیں تو اُمید ہے کہ ایک دن اس سے بھی زیادہ روپیہ آئے گا اگر ڈیڑھ ہزار سنٹر قائم ہو جائیں۔تو کراچی سے پشاور تک ہر پانچ میل پر ایک سنٹر قائم ہو جاتا ہے۔بنگال سے بھی اب ایسی خبریں آ رہی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی لوگوں کو وقف جدید کی طرف جلد ۲۰