تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 395
تاریخ احمدیت 395 جلد ۲۰ ایک اہم حصہ تھا جسے آج میں پورا کرتے ہوئے دلی خوشی محسوس کر رہا ہوں۔(دینِ حق ) ایک جامد مذہب نہیں ہے۔وہ پہلے بھی کئی ایک مادی فلسفوں کا کامیابی سے مقابلہ کر چکا ہے۔ہمیں آج بھی متحد ہوکر یہ ثابت کر دینا چاہئے کہ دین حق ) اس زمانہ میں بھی ایک زندہ طاقت ہے۔جو زمانہ کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے۔آخر میں آپ نے اہلِ ربوہ کا شکر یہ ادا کیا۔پروفیسر فوزی خلیل نے اپنی تقریر میں عربی زبان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ یہی ایک زبان ہے جو رنگ ونسل کے فرق کے باوجود عالم اسلام میں اتحاد اور یگانگت پیدا کر سکتی ہے۔اہلِ پاکستان کو بھی اس زبان کی ترویج و اشاعت میں نمایاں حصہ لینا چاہئے۔جلسہ سالانہ ۱۹۵۹ء کا ایک ماہ کے لئے التواء حکومت پاکستان کی طرف سے ۸۰ اس سال ۲۶ / دسمبر سے ملک بھر میں بنیادی جمہوریتوں کے انتخاب منعقد کئے جارہے تھے۔اس استثنائی صورتِ حال کے پیش نظر سید نا حضرت مصلح موعود کی خدمت میں جلسہ سالانہ ۱۹۵۹ء کے ایک ماہ کے لئے ملتوی کئے جانے کی درخواست کی گئی جس کو حضور نے منظور فرمایا اور ۲۲ ۲۳ ۲۴ جنوری ۱۹۶۰ء کو اس کے انعقاد کی تاریخیں مقرر فرمائیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد نے خلیفہ وقت کے اس فیصلہ کی اطلاع اور تیاری جلسہ کی تحریک کے لئے مندرجہ ذیل اعلان فرمایا : - جماعت احمدیہ کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ کی تاریخوں میں تبدیلی منظور فرمائی ہے۔اب ۲۶، ۲۷، ۲۸ / دسمبر کی بجائے جلسہ سالانہ انشاء الله ۲۲ ،۲۳ ۲۴ /جنوری ۱۹۶۰ء بروز جمعہ، ہفتہ، اتوار ہوگا۔حضور نے فرمایا ہے ہمارا جلسہ تو خالصہ مذہبی جلسہ ہے لیکن چونکہ ان ایام میں بالخصوص ملک بھر میں لوگ بنیادی جمہوریتوں کے انتخابات میں مصروف ہوں گے اس لئے جماعت کے مشورے کے مطابق یہ تبدیلی منظور کی جاتی ہے۔بنیادی جمہوریتوں کا قیام ملک کے آئینی نظام اور اس کی ترقی و استحکام کے حق میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے احباب جماعت کو چاہئے کہ وہ دیگر برادرانِ وطن کے دوش بدوش حکومت کے اس تجربے کو جس کے ساتھ ملک کی فلاح و بہبود وابستہ ہے کامیاب بنانے کی