تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 393 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 393

تاریخ احمدیت 393 ہزاروں گنا زیادہ شان وشوکت سے پوری ہوگی کہ وو پھیر دے میری طرف اے سارباں جنگ کی مہار۔“ پس اپنے چندوں کو بڑھاؤ اور خدا کی رحمت کو کھینچو کیونکہ جتنا تم چندہ دو گے اس سے ہزاروں گنا زیادہ تمہیں ملے گا۔اور دنیا کی ساری دولت کھینچ کر تمہارے قدموں میں ڈال دی جائے گی۔جس کے متعلق تمہارا فرض ہوگا کہ سلسلہ احمدیہ کے لئے خرچ کرو۔تا کہ دنیا کے چپہ چپہ پر مبلغ بھیجے جاسکیں۔اور ساری دنیا میں ( دین حق ) پھیل جائے۔اور دنیا کی ساری حکومتیں ( دین حق ) میں داخل ہو جائیں۔آپ کو یہ بات بڑی معلوم ہوتی ہوگی خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑی نہیں۔کرتا ہوں۔پس میں اس اعلان کے ذریعہ تحریک جدید کے نئے سال کا آغاز مرز امحموداحمد۔خلیفہ المسح الثانی ۱/۱۱/۵۹ جلد ۲۰ اجتماع کا اختتام صدر مجلس حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے ولولہ انگیز خطاب سے ہوا جس میں آپ نے انقلاب عظیم کے خوشکن آثار کا تذکرہ کر کے انصار بزرگوں کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف وجد آفریں رنگ میں توجہ دلائی۔مئی ۱۹۵۹ء میں آچاریہ ونوبا بھاوے نے آچار یہ ونو با بھا وے قادیان میں قادیان کے احمد یہ وفد سے وعدہ کیا تھا کہ وہ دورہ کشمیر مکمل کرنے کے بعد واپسی پر قادیان بھی تشریف لائیں گے۔چنانچہ آپ حسب وعدہ ۴ رنومبر ۱۹۵۹ء کو دھار یوال پہنچے اور پھر قادیان آئے۔احمد یہ محلہ میں ان کا گرم جوش استقبال کیا گیا۔آپ اپنے ساتھیوں اور دیگر سینکڑوں غیر مسلم معززین کے ساتھ بیت اقصیٰ میں پہنچے۔جہاں ان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب جٹ فاضل امیر جماعت قادیان نے جماعت کی طرف سے ایڈریس پڑھ کر سنایا جس میں ( دین حق ) کے اقتصادی نظام کا خلاصہ پیش کیا۔ایڈریس کے بعد اچاریہ جی کو تفسیر صغیر اور دوسرا لٹریچر پیش کیا گیا۔جسے موصوف نے بڑے ادب اور احترام اور ممنونیت کے ساتھ قبول کیا۔اچاریہ جی نے ایڈریس کے جواب میں اس خوشی کا اظہار کیا کہ روحانیت کا ایک مرکز دیکھنے کا ایک موقعہ انہیں میسر آیا۔ازاں بعد انہوں نے کالج گراؤنڈ میں چھ سات ہزار کے مجمع میں تقریر کی جس میں احمدیہ